| حکایتیں اور نصیحتیں |
کر دیتے ہیں جس کے متعلق انہیں خوف ہو کہ وہ انہیں ختم کر دے گی اور دنیاکی ہر اس چیز کو چھوڑ دیتے ہیں جس کے متعلق معلوم ہو کہ عنقریب وہ انہیں چھوڑ دے گی۔دنیا کے عطِیَّات میں سے کوئی چیز ان کے آڑے آئے تو وہ اس کو چھوڑدیتے ہیں اوراس کی رفعتوں میں سے کوئی چیز انہیں دھوکا دے تو وہ اسے ترک کردیتے ہیں۔ دنیا ان کے نزدیک پرانی ہو چکی ہے، وہ دوبارہ اِسے نیا نہیں کرتے۔ یہ اُن کے سامنے ویران ہوچکی ہے، وہ اِسے آباد نہیں کرتے۔ یہ ان کے سینوں میں مرچکی ہے، وہ اِسے زندہ نہیں کرتے بلکہ سرے سے گِرا دیتے ہیں۔ دنیاسے اپنی آخرت کی بنیاد رکھتے ہیں اور اسے بیچ کر باقی رہنے والی چیز خریدتے ہیں۔ ان کی نظر میں دنیادار وہ نیم مردہ لوگ ہیں جن کے لئے عبرت ناک سزا لکھ دی گئی ہے۔ لہٰذا دُنیا دار جس چیز کی اُمید رکھتے ہیں وہ اسے امان نہیں سمجھتے اور جس چیز سے اہلِ دنیا ڈرتے ہیں وہ اس سے خوف زدہ نہیں ہوتے ۔''
(الفتوحات المکیۃ لمحی الحق والدین المعروف بابن عربی، الباب الموفی ستین۔۔۔۔۔۔الخ، ج۸، ص۴۶۱)
سیِّدُناابویزید علیہ رحمۃ اللہ المجید کا ذوقِ عبادت:
حضرت سیِّدُنا ابنِ ظفر علیہ رحمۃ الرَّب بیان فرماتے ہیں کہ ''حضرت سیِّدُنا ابویزید بسطامی قُدِّسَ سِرُّہ، النُّورَانِی کو بچپن میں جب مدرسہ داخل کیاگیا اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ قرآنِ کریم کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے اس آیتِ مبارکہ پرپہنچے:
یٰۤاَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ ۙ﴿۱﴾قُمِ الَّیۡلَ اِلَّا قَلِیۡلًا ۙ﴿۲﴾
ترجمۂ کنز الایمان: اے جھرمٹ مارنے والے! رات میں قیام فرما سوا کچھ رات کے۔(پ۲۹، المزمل۱۔۲)'' تو اپنے والدِ محترم حضرت سیِّدُنا طیفور بن عیسیٰ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں عرض کی:''یہاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کس سے مخاطب ہے؟'' تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے فرمایا: ''اے میرے بیٹے! یہ ہمارے آقا ومولیٰ حضرت سیِّدُنا احمدِ مجتبیٰ،محمدِمصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہیں۔'' پوچھا: ''اے میرے ابا جان! پھر آپ بھی حضور نبئ کریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی سُنَّت پر عمل کیوں نہیں کرتے۔'' تو انہوں نے جواب دیا: ''پیارے بیٹے! یہ حکم خاص حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو فرمایا گیا پھر سورۂ طہٰ میں اس میں تخفیف کر دی گئی۔''
جب آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا سبق اس آیتِ مبارکہ پر پہنچا:
اِنَّ رَبَّکَ یَعْلَمُ اَنَّکَ تَقُوۡمُ اَدْنٰی مِنۡ ثُلُثَیِ الَّیۡلِ وَ نِصْفَہٗ وَ ثُلُثَہٗ وَ طَآئِفَۃٌ مِّنَ الَّذِیۡنَ مَعَکَ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان :بے شک تمہارا رب جانتاہے کہ تم قیام کرتے ہوکبھی دو تہائی رات کے قریب کبھی آدھی رات کبھی تہائی اور ایک جماعت تمہارے ساتھ والی۔(پ۲۹،المزمل :۲0)'' تو پھر پوچھنے لگے:''اے میرے والد ِ محترم! میں سن رہاہوں کہ اس میں ایک ایسے گروہ کاذکر ِ خیر بھی ہے جو راتوں کو قیام کرتاہے۔'' تو والدِ محترم نے بتایا:''جی ہاں! وہ ہمارے پیارے آقا، دوعالم کے داتا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ہیں۔'' تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے عرض کی:''اس چیز کو