پاک ہے وہ ذات جس نے بعض بندوں کو اپنی بارگاہ کے قریب فرمایااورانہیں اپنے ماسواسے چھپالیا۔اور کچھ بندوں کو دُور کیااور دُوری وفاصلے کی تلواران پرچلادی۔اس نے سید(یعنی حضرت سیدناذوالنون مصری علیہ رحمۃ اللہ القوی ) کے لئے دامِ محبت کو نصب کر لیا۔اورطنابِ محبت سے حضرت سیدناجنیدبغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی کو وابستہ کر دیاتو وہ قابلِ عزت وباعثِ فخرمقام پرفائز ہو گئے ۔ اس نے تیزنگاہ توفیق کو حضرت سیدنا شقیق بلخی علیہ رحمۃ اللہ الولی کی طرف بھیجا تو انہوں نے شکستگی اورفقر کی رسی سے اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔ اُس نے حضرت سیدنا ابو یزیدعلیہ رحمۃ اللہ المجید پردوسروں سے بڑھ کر کرم فرمایاتو انہوں نے دنیا سے کنارہ کشی کولازم کر لیا اور مزیدفضل وکرم کے طلب گار ہوئے۔ اُس نے حضرت سیدنا معروف کرخی علیہ رحمۃ اللہ القوی پر بھلائی کی سخاوت فرمائی تو ان کا دل معرفت و بصیرت سے آبادہوگیا۔اُس نے حضرت سیدنا فضیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر فضلِ خاص فرمایا تووہ انتہادرجہ کی عبادت کے لئے مُستَعِدّ(مُس۔تَ۔عِدّ۔۔۔۔۔۔یعنی آمادہ وتیار)ہوگئے اورقربِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ کے حصول کے لئے شب بیداریاں شروع کردیں ۔ اور اُس نے حضرت سیدنامنصور حلاج علیہ رحمۃ اللہ الوہاب کو مزاج کی تبدیلی کاجام پلایاتووہ عشقِ حقیقی کے نشے میں مست ہوگئے، جوش بڑھ گیا،اسرارِالہٰی عَزَّوَجَلَّ کوظاہرکردیا،زبانِ وجدسے ایسی بات ظاہرہوئی کہ ظاہری حدودسے باہر ہوگئے اور صبر کاپیمانہ لبریز ہو گیا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: