ترک کرنے میں کوئی بھلائی نہیں جو رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کیا کرتے تھے۔'' چنانچہ، اس کے بعد آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے والد ِ محترم ساری ساری را ت قیام کرنے لگے۔ایک رات آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بیدار ہوئے اور اپنے والد ِ محترم سے عرض کی: ''مجھے بھی سکھلایئے، میں بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کروں گا۔'' والد صاحب فرمانے لگے:''بیٹے !ابھی تم چھوٹے ہو۔'' عرض کی: ''اے میرے ابا جان! جس دن لوگ الگ الگ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حضور حاضر ہوں گے تاکہ اپنے اعمال دیکھیں،اور اگر میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے مجھ سے پوچھ لیا، ''اے ابویزید! تم نے کیا کِیا؟'' تومیں جواب دوں گا: '' میں نے اپنے والد ِمحترم سے عرض کی تھی کہ مجھے سکھلائيے تاکہ میں بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھا کروں تو انہوں نے مجھے کہا تھا، ''ابھی تم چھوٹے ہو۔'' یہ سن کر فوراً آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے والد ِ محترم کہنے لگے:''نہیں، خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم!میں نہیں چاہتا کہ تم ایسی بات کہو ۔'' پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو والدصاحب نے نماز سکھائی اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی رات کا اکثر حصہ نماز ادا کرتے رہتے۔
سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ!کیا شان ہے ان لوگوں کی جن کے ذوق وشوق کی سواری مقصد کے حصول کے لئے راتوں کو چلتی رہتی یہاں تک کہ وہ اپنی منزلِ مراد پر پہنچ جاتے اور انہیں عنایتِ خداوندی حاصل ہو جاتی۔