Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
363 - 649
ترک کرنے میں کوئی بھلائی نہیں جو رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کیا کرتے تھے۔'' چنانچہ، اس کے بعد آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے والد ِ محترم ساری ساری را ت قیام کرنے لگے۔ایک رات آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بیدار ہوئے اور اپنے والد ِ محترم سے عرض کی: ''مجھے بھی سکھلایئے، میں بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کروں گا۔'' والد صاحب فرمانے لگے:''بیٹے !ابھی تم چھوٹے ہو۔'' عرض کی: ''اے میرے ابا جان! جس دن لوگ الگ الگ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حضور حاضر ہوں گے تاکہ اپنے اعمال دیکھیں،اور اگر میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے مجھ سے پوچھ لیا، ''اے ابویزید! تم نے کیا کِیا؟'' تومیں جواب دوں گا: '' میں نے اپنے والد ِمحترم سے عرض کی تھی کہ مجھے سکھلائيے تاکہ میں بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھا کروں تو انہوں نے مجھے کہا تھا، ''ابھی تم چھوٹے ہو۔'' یہ سن کر فوراً آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے والد ِ محترم کہنے لگے:''نہیں، خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم!میں نہیں چاہتا کہ تم ایسی بات کہو ۔'' پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو والدصاحب نے نماز سکھائی اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی رات کا اکثر حصہ نماز ادا کرتے رہتے۔

    سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ!کیا شان ہے ان لوگوں کی جن کے ذوق وشوق کی سواری مقصد کے حصول کے لئے راتوں کو چلتی رہتی یہاں تک کہ وہ اپنی منزلِ مراد پر پہنچ جاتے اور انہیں عنایتِ خداوندی حاصل ہو جاتی۔
جہنم کی آگ سے براءَ ت نامہ :
    حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کے وقت غیر آباد مساجد میں تشریف لے جاتے اور وہاں نماز ادا کرتے رہتے جس سے اللہ عَزَّوَجَلَّ خوش ہوتا۔جب سحری کاوقت ہوتا تو پیشانی زمین پر رکھ کر رُخسار مِٹی پر رگڑتے ہوئے طلوعِ فجر تک روتے رہتے۔ ایک رات حسب ِ معمول جب آپ نے ایسا کیا اور پھر جب فارغ ہو کر سر اٹھایا تو ایک سبز پرچہ ملا جس کا نور آسمان تک پھیلاہوا تھا۔ اس پر لکھا تھا:
''ھٰذِہٖ بَرَاءَ ۃٌ مِّنَ النَّارِ مِنَ الْمَلِکِ الْعَزَیْزِ لِعَبْدِہٖ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ''
یعنی خدائے مالک وغالب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے یہ ''جہنم کی آگ سے بَرَاءَ تْ نامہ ''ہے جو اس کے بندے عمر بن عبدالعزیز کو عطا ہوا ہے۔''
 (تفسیر روح البیان، الدُّخان، تحت الایۃ۳،ج۸، ص۴0۲)
ایک نوجوان کی توبہ:
    منقول ہے، ''ایک دن حضرت سیِّدُنا منصوربن عمار علیہ رحمۃاللہ الغفَّار لوگوں کو وعظ ونصیحت کرنے کے لئے منبر پر تشریف لائے اور انہیں عذابِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ سے ڈرانے اور گناہوں پر ڈانٹنے لگے۔ قریب تھاکہ لوگ شدَّتِ اضطراب سے تڑپ تڑپ کر مر
Flag Counter