| حکایتیں اور نصیحتیں |
پس یہ برگزیدہ بندے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محفوظ رازاورپوشیدہ علم کے خزانوں پر امین ہیں حتی کہ عمریں ختم ہوجائیں۔اگر ان ہستیوں کا وجود نہ ہو تو چشمے اور نہریں خشک ہوجائیں ۔ اگر ان کے رکوع و سجود نہ ہوں تو بارشیں بند ہو جائیں ،زمین کھیتی اُگانا اور درخت پھل دینا چھوڑ ديں۔یہ ارادۂ الہٰی عَزَّوَجَلَّ کے دائرے میں رہتے ہیں۔انہیں بارگاہِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ میں حاضر ہونے سے نہ تو غفلت روکتی ہے، نہ ہی اس سے دوری میں قرار آتا ہے۔جب بادشاہوں کے دروازے بندہوجاتے ہیں تو ان کے لئے پردوں کو اٹھا دیاجاتا ہے۔ جب سلاطین کے پردے آویزاں(آ۔وِے۔زاں) ہوجاتے ہیں تو ان کے لئےاللہ واحدوقہار عَزَّوَجَلَّ تجلِّی فرماتا ہے۔ پس اگر وہ تجلی ان میں سے کسی سے پلک جھپکنے کی دیر چھپ جائے تو پہاڑ ٹوٹ کرزمیں بوس ہوجائیں اوردنیامیں زلزلہ آجائے۔
بقیہ حاشیہ۔۔۔۔۔۔اورحضرت سیدناامام،محقق، علامہ محمدیوسف نبھانی قدس سرہ النورانی اپنی کتاب ''جامعِ کراماتِ اولیاء''میں ان مبارک ہستیوں کی اقسام کی وضاحت یوں کرتے ہیں:''اقطاب:یہ حضرات اصالتاًیا نیابتاً سب احوال ومقامات کے جامع ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مشائخ کی اصطلاح میں جب یہ لفظ بغیر اضافت استعمال ہو تو ایسے عظیم انسان پر اس کا اطلاق ہوتا ہے جو زمانہ بھر میں صرف ایک ہی ہوتا ہے، اسی کو غوث بھی کہتے ہیں۔یہ مقرَّبینِ خدا سے ہوتے ہیں اور اپنے زمانے میں گروہِ اولیاء کے آقا ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اوتاد:یہ صرف چار حضرات ہوتے ہیں۔ کسی دور میں ان میں کمی بیشی نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان چار میں سے ایک کے ذریعے اللہ عَزَّوَجَلَّ مشرق کی حفاظت فرماتا ہے اور ایک کی ولایت مشرق میں ہوتی ہے، دوسرا مغرب میں،تیسرا جنوب اور چوتھاشمال میں ولایت کا مرکز ہوتا ہے۔ان کے معاملات کی تقسیم کعبہ (معظمہ)سے شروع ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان چاروں کے القاب اور صفاتی نام یہ ہیں:عبدالحی،عبدالعلیم،عبدالقادراور عبد المرید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابدال:یہ سات سے کم وبیش نہیں ہوتے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کے ذریعے اقالیمِ سبعہ کی حفاظت فرماتا ہے۔ ہر بدل کی ایک اقلیم ہوتی ہے جہاں اس کی ولایت کا سِکّہ چلتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نقباء: ہر دور میں صرف بارہ نقیب ہوتے ہیں ۔آسمان کے بارہ ہی برج ہیں اور ہر ایک نقیب ایک ایک برج کی خاصیتوں کا عالم ہوتا ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان نقبائے کرام کے ہاتھوں میں شریعتوں کے نازل کئے ہوئے علوم دے دئیے ہیں۔ نفوس میں چھپی اشیاء اور آفاتِ نفوس کا انہیں علم ہوتا ہے۔نفوس کے مکر و خداع کے استخراج پر یہ قادر ہوتے ہیں ۔ابلیس ان کے سامنے یوں منکشف ہوتا ہے کہ اس کی مخفی قوتوں کوبھی یہ جانتے ہیں جنہیں وہ خود نہیں جانتا۔ ان کے علم کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ اگر کسی کا نقشِ پا زمین پر لگا دیکھ لیں تو انہیں اس کے شقی و سعید ہونے کا پتہ چل جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نجباء:ہر دور میں آٹھ سے کم و بیش نہیں ہوتے۔ ان حضرات کے احوال سے ہی قبولیت کے علامات ظاہر ہوتی ہیں حالانکہ ان علامات پر ضروری نہیں کہ انہیں اختیا ر بھی ہو۔ بس حال کا ان پر غلبہ ہوتا ہے، اس حال کے غلبہ کو صرف وہ حضرات پہچان سکتے ہیں جو رتبہ میں ان سے اوپر ہوتے ہیں۔ان سے کم مرتبہ لوگ نہیں پہچان سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رجال الغیب:یہ دس حضرات ہوتے ہیں۔کم وبیش نہیں ہوتے۔ ہمیشہ ان کے احوال پر انوارِ الہٰی کا نزول رہتا ہے لہٰذا یہ اہلِ خشوع ہوتے ہیں۔اور سرگوشی میں بات کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ مستور(یعنی نظروں سے اوجھل) رہتے ہیں۔زمین و آسمان میں چھپے رہتے ہیں،ان کی مناجات صرف حق تعالیٰ سے ہوتی ہیں اور ان کے شہود کا مرکزبھی وہی ذاتِ بے مثال ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ مجسمۂ حیا ہوتے ہیں، اگر کسی کو بلند آواز سے بولتا سنتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں اور ان کے پٹھے کانپنے لگتے ہیں ،اہل اللہ جب بھی لفظ رجالُ الغیب استعمال فرماتے ہیں تو ان کا مطلب یہی حضرات ہوتے ہیں۔ کبھی اس لفظ سے وہ انسان بھی مراد لئے جاتے ہیں جو نگاہوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ کبھی رجالُ الغیب سے نیک اور مومن جنّ بھی مراد لئے جاتے ہیں۔ کبھی ان لوگوں کو بھی رجالُ الغیب کہہ دیا جاتا ہے جو علم اور رزقِ محسوس حِسّی دنیا سے نہیں لیتے بلکہ غیب کی دنیا سے علم و رزق انہیں ملتا ہے۔'' (جامع کرامات اولیاء (مترجم) ج1، ص230تا239ملخصاً)