سب خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے جس نے اپنے حسنِ انتخاب سے نیکوکار اولیاء میں خواص کو خاص فرمایا۔اس نے حصولِ مقاصدوالی رات میں ان میں سے افضل واعلیٰ ہستیوں کو عالَمِ اسرار کی سیرکرائی ۔اوروہ اس کے حقوق کی ادائیگی کے لئے کمربستہ ہوگئے تواُس نے انہیں اپنے آزاد اور غلام سب بندوں پرامین بنا دیا۔ان کے ہاتھوں مانگنے والوں کو مرادیں ملتی اور ان کی برکتوں سے خطا کاروں کی خطائیں اورگناہ معاف ہوتے ہیں۔ یہ شہریوں اور دیہاتیوں کونفع پہنچانے کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے دنیامیں تصرف کرتے ہیں ۔ان میں کچھ نقباء ہیں تو کچھ ابدال ،بعض نجباء ہیں تو بعض رجال ، بعض اقطاب ہیں اورکوئی غوث کہ اس کے وسیلہ سے بارشیں برستی، اس کی برکت سے (چوپایوں کے)تھن دودھ سے بھرتے اورپھل اور کھیتیاں سر سبز و شاداب ہو تی ہیں۔٭۔۔۔۔۔۔نقباء 70 ہیں اور یہ مصر میں ہیں، کسی دوسرے شہر میں نہیں ہوتے ۔٭۔۔۔۔۔۔ ابدال 40 ہیں اور یہ شام میں ہیں اور معرفت و بصیرت رکھنے والوں کونظرآتے ہیں ۔٭۔۔۔۔۔۔ نجباء 300 ہیں ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں مغرب میں( شیاطین وکفارسے ) جنگ کے لئے مقررفرمایا۔یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دین کے محافظ و مدد گار ہیں۔٭۔۔۔۔۔۔رجالُ الغیب10ہیں اور یہ عراق میں ہیں۔ اور ان کاجامِ محبت ہر طرح کی آمیزش سے پاک و صاف اورشفاف ہے۔٭۔۔۔۔۔۔ اقطاب7ہیں۔ جنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے شہروں اوراطراف عالَم میں بسنے والوں کے نفع کے لئے سات مُلکوں میں پیدا فرمایا۔٭۔۔۔۔۔۔اور غوث (ہرزمانے میں)صرف ایک ہوتاہے۔جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ عزت وعظمت والے شہر مَکَّۃُ الْمُکَرَّمَہ
(زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَتَعْظِیْماً)
پرمامورفرماتاہے۔(۱)
1۔۔۔۔۔۔مجدّ ِدِاعظم ،امامِ اہلسنت،حضرت سیِّدُناامام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن ارشادفرماتے ہیں: ''غوث بالیقین اس (یعنی ولی مسمّٰی با لخضر )سے افضل ہوتا ہے کہ وہ اپنے دورے میں سلطان کل اولیاء ہے ۔ یونہی امامین،یونہی افراد،یونہی اوتاد، یونہی بُدلاء، یونہی ابدال کہ یہ سب یکے بعد دیگرے باقی اولیائے دورہ (یعنی زمانہ)سے افضل ہوتے ہیں۔امام عبد الوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی کتاب ''الیواقیت والجواہر فی بیان عقائد الاکابر''میں فرماتے ہیں:
اِنَّ اَکْبَرَالْأوْلِیَاءِ بَعْدَ الصَحَابَۃِرضی اللہ تعالٰی عنھماَلْقُطْبُ ثُمَّ الاَفْرَادُ عَلٰی خِلَافٍ فِیْ ذَالِکَ ثُمَّ الْاِمَامَانِ ثُمَّ الْاَوْتَادُ ثُمَّ الْاَبْدَالُ اہ ـ اَقُوْلُ: وَالْمُرَادُ بِالْاَبْدَالِ اَلْبُدَلَاءُ السَّبْعَۃُ لِمَا ذُکِرَ بَعْدَہٗ اَنَّ الْاَبْدَالَ السَّبْعَۃُ لَایَزِیْدُوْنَ وَلَا یَنْقُصُوْنَ وَھٰؤُلَاءِ ھُمُ الْبُدَلَاءُ اَمَّا الْاَبْدَالُ فَاَرْبَعُوْنَ بَلْ سَبْعُوْنَ کَمَا فِیْ الْاَحَادِیْثِ۔
(الفتاوی الرضویۃ،ج ۳0، ص۸۷)
صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے بعد سب سے بڑا ولی قطب ہوتا ہے ،پھر افراد ،اس میں اختلاف ہے ، پھر امامان، پھر اوتاد ، پھر ابدال اہ ـ میں کہتا ہوں: ابدال سے مراد سات بُدلاء ہیں، اس دلیل کی وجہ سے جو اس کے بعد مذکور ہے کہ بے شک ابدال سات ہیں، نہ زیادہ ہوتے ہیں نہ کم،اور یہی بدلاء ہیں ۔رہے ابدال تو وہ چالیس بلکہ ستر ہیں جیسا کہ احادیث میں ہے۔(ت)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔۔۔۔