Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
358 - 649
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا وصالِ باکمال:
    حضرت سیِّدُنا ابو بکر عجوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُناثعلب رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''حضرت سیِّدُنا معروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی کی وفات200ھ میں ہوئی۔'' حضرت سیِّدُناابو القاسم نضری علیہ رحمۃاللہ القوی جن کا تعلق قبیلہ بنو نضر بن معین سے ہے، فرماتے ہیں کہ ''مجھے یہ خبر ملی ہے کہ حضرت سیِّدُنامعروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی کی نما ز جنازہ میں تین لاکھ افراد نے شرکت کی ۔''

    حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بن محمد وراق علیہ رحمۃاللہ الرزّاق فرماتے ہیں کہ ایک شامی شخص حضرت سیِّدُنامعروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی کی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہوا، سلام عرض کرنے کے بعد کہنے لگا: ''مجھے خواب میں حکم ہواہے کہ حضرت سیِّدُنامعروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام عرض کرو کیونکہ وہ زمین و آسمان والوں میں مشہور ومعروف ہیں۔''

    ایک بزرگ سے منقول ہے کہ میں نے اپنے بھائی کو مرنے کے ایک سال بعد خواب میں دیکھ کر پوچھا:''اے میرے بھائی!
 ''مَا فَعَلَ اللہُ بِکَ
یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟'' تو اس نے جواب دیا:''اب مجھے آزاد کر دیاگیاہے کیونکہ جب حضرت سیِّدُنامعروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی ہمارے پاس مدفون ہوئے تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے دائیں،بائیں ،آگے، پیچھے سے عذاب میں گرفتار تیس تیس ہزارگنہگاروں کو نجات دے دی گئی ۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین ا)
وَصَلَّی اللہ عَلٰی سیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِہٖ وَ صَحْبِہٖ اَجْمَعِیْن
Flag Counter