Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
357 - 649
روکتے تھے۔''میں نے پوچھا:''آپ کے بھائی حضرت سیِّدُناامام احمد بن حنبل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کہاں ہیں؟'' فرمایا: ''وہ جنت کے دروازے پر کھڑے اہلِ سنت کے ان افراد کی شفاعت کر رہے ہیں جن کا عقیدہ تھا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کلام قرآنِ کریم غیر مخلوق ہے۔'' میں نے پھر پوچھا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنامعروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟'' تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے جواباً فرمایا: ''افسوس! مجھے معلوم نہیں کیونکہ ہمارے اور ان کے درمیان پردے حائل ہیں، انہوں نے جنت کے شوق یا جہنم کے ڈر سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت نہ کی تھی بلکہ ان کی عبادت تو محض دیدارِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے لئے تھی۔چنانچہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں اعلیٰ ترین مقام عطافرمایا اور اپنے اور ان کے درمیان سب پردے اٹھادیئے۔ اب جس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں کوئی حاجت پیش کرنی ہو تواُسے چاہے کہ حضر ت سیِّدُنا معروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی کے مَزارِ پُرانوار پرحاضر ہو کر دعا کرے، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی دعا قبول کی جائے گی۔''
      (صفۃ الصفوۃ، ذکر المصطفین من اھل بغداد، الرقم۲۶0،ج۲،ص۲۱۴)
    حضرت سیِّدُنامحمد بن عبدالرحمن زہری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا بیان ہے کہ میں نے اپنے باپ حضر ت سیِّدُنا عبدالرحمن رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو یہ فرماتے سنا کہ '' حضرت سیِّدُنامعروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی کی قبرِ انور پر تمام حاجات پوری ہوتی ہیں۔''

    حضرت سیِّدُنایحیی بن سلیمان علیہ رحمۃاللہ المنَّان فرماتے ہیں کہ مجھے ایک حاجت تھی اورمیں کافی تنگدست تھا۔ حضرت معروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی کی قبرِ اَنور پر میری حاضری ہوئی،میں نے تین بار سورۂ اخلاص کی تلاوت کی اور اس کا ثواب آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اور تمام مسلمانوں کی ارواح کو پہنچایا،پھر اپنی حاجت بیان کی۔ جوں ہی میں وہاں سے واپس گیا میری حاجت پوری ہو چکی تھی۔

    حضرت سیِّدُناابوبکر خیَّاط علیہ رحمۃاللہ الْجَوَاد فرماتے ہیں کہ میں نے عالم خواب میں خود کو قبرستان میں دیکھا۔قبر والے اپنی قبروں پر بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے سامنے پھولوں کے پودے ہیں۔اچانک حضرت سیِّدُنامعروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی کو ان کے درمیان کھڑا پایا کہ کبھی اِدھر جاتے ہیں اور کبھی اُدھر ۔میں نے پوچھا:''اے ابو محفوظ! ''مَا فَعَلَ اللہُ بِکَ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟''اور کیا آپ اس دنیاسے کوچ نہیں کر چکے؟''تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے جواباً فرمایا:''کیوں نہیں،پھرچند اشعار پڑھے، جن کا مفہوم کچھ یوں ہے :

    ''مُتَّقی انسان کی موت درحقیقت حیاتِ جاوِدانی ہے یعنی ایسی زندگی ہے جو ختم ہونے والی نہیں۔ کئی لوگ اس جہانِ فانی سے کوچ کر چکے ہیں لیکن ان کا نام ابھی تک لوگوں میں(اچھائی کے ساتھ )زندہ ہے۔ فخرکرناصرف اہلِ علم کو روا ہے کیونکہ وہ ہدایت پر ہوتے ہیں اور جو بھی ان سے ہدایت حاصل کرناچاہے، یقینا ہدایت پا جاتاہے۔وہ خود تو اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے لیکن ان کے چاہنے والے ان کے وصال کے بعدبھی ان کا نام زندہ رکھے ہوئے ہیں اور ہم بھی انہی مرنے والوں کی صف میں ہیں جوزندہ ہیں۔ ''
Flag Counter