| حکایتیں اور نصیحتیں |
لے آیا۔ جب باپ نے ان دونوں کو آتے دیکھاتو اس کا چہرہ خوشی سے دَمَک اٹھا۔ اس نے پادری سے پوچھا: ''آپ نے میرے بچے کی ذہانت کو کیسا پایا؟''تو وہ کہنے لگا:'' ذرا اس کا عارفانہ کلام تو سنیں۔'' پھر اس نے ساری گفتگوبچے کے باپ کو سنا دی۔ یہ سن کر باپ بولا: ''اس خدا کی قسم جوہر لاچار وبے بس کی مدد فرماتا ہے! میرا بیٹامحض حضرت سیِّدُنامعروف کرخی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی دُعا کی برکت سے اس مقام و مرتبے تک پہنچا ہے۔'' پھر کہنے لگا : '' اے میرے بیٹے! سب خوبیاں خدائے واحدعَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے تیرے سبب ہم سب کوگمراہی سے نجات عطا فرمائی۔میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت سیِّدُنا محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اس کے سچے رسول ہیں۔'' اس کے بعد بچے کی ماں اور تمام گھروالے اسلام لے آئے اور اپنے گلے سے (عیسائیوں کے نشان ) صلیب کو اُتارپھینکا۔ (سُبْحَانَ اللہ !) اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا معروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی کی دعا کی بدولت ان سب کو جہنم سے چھٹکارا دے دیا۔
مزارات اولیاءِ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین كي برکات:
حضرت سیِّدُنااحمد بن عباس رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں بغداد سے حج کے ارادے سے نکلاتو ایک ایسے شخص سے ملاقات ہوئی جس پر عبادت کے آثار نمایاں تھے۔اس نے پوچھا:''آپ کہاں سے آرہے ہیں؟''میں نے جواب دیا: ''بغداد سے بھاگ کر آرہاہوں کیونکہ میں نے وہاں فساد دیکھا ہے،مجھے خوف ہے کہ اہلِ بغداد کو چاند گرہن نہ لگ جائے۔'' اس بزرگ نے فرمایا: ''آپ واپس چلے جائیے اور ڈریئے مت، کیونکہ بغداد میں چار ایسے اولیائے کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی قبریں ہیں جن کی برکت سے اہلِ بغداد تمام بلاؤں اور مصائب سے محفوظ ہیں۔''میں نے پوچھا:''وہ کون ہیں؟''جواب دیا:''وہ حضرت سیِّدُناامام احمد بن حنبل ،حضرت سیِّدُنامعروف کرخی، حضرت سیِّدُنا بشر حافی اورحضرت سیِّدُنامنصور بن عماررحمۃاللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ہیں۔'' چنانچہ، میں واپس آ گیااور ان مردانِ حق کی قبروں کی زیارت کی تو مجھے بہت کیف وسرور حاصل ہوا۔
(تاریخ بغداد،باب ما ذکر فی مقابر بغداد المخصوصۃ بالعلماء والزہاد،ج۱،ص۱۳۳)
جس کا عمل ہو بے غرض اُس کی جزا کچھ اور ہے:
حضرت سیِّدُناابو الفتح بن بشر رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''میں نے عالَمِ خواب میں حضرت سیِّدُنا بِشْر حافی علیہ رحمۃاللہ الکافی کو ایک باغیچہ میں دیکھا۔آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے ایک دسترخوان بِچھا ہوا تھا۔ میں نے پوچھا:''مَا فَعَلَ اللہُ بِکَ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟'' تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا:''اس نے رحم فرماتے ہوئے مجھے بخش دیااور تخت پر بٹھاکر فرمایا:''اس دستر خوان پر موجود پھلوں میں سے جو چاہوکھاؤ اور لطف اٹھاؤکیونکہ تم دنیامیں اپنے نفس کوخواہشات سے