استاد نے کہا: ''ٹھیک ہے، تو پھر کہو !الف۔''بچے نے کہا: ''الف تو وَصلی یعنی ملانے والا ہے،جس نے ہر دل کو اس محبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کا گرویدہ کر دیا جس کی صفات اَزَلی ہیں۔''استاد نے کہا: ''اے بیٹے! کہو! باء۔''بچے نے کہا: ''باء سے مراد حقیقی بقاء ہے، جس نے دلوں کو زندہ کیا اور ان میں محبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے سوا کچھ نہ چھوڑا۔'' استاد نے کہا:''اے بیٹے !کہو!تاء۔'' توبچے نے کہا: ''تاء سے مراد دل کا جذبہ وشوق ہے جو ذاتِ باری تعالیٰ کے متعلق دل میں کھٹکنے والے تمام شکوک و شبہات کودور کرتا ہے۔'' پادری نے کہا:''اے بیٹے! کہو!ثاء۔''توبچے نے کہا: ''ثاء سے مراد اس نورانی لباس کے لئے پردہ ہے جو مقامِ قرب پانے والوں کوثابت رکھے ہوئے ہے۔ استادنے کہا:''اے بیٹے !کہو! جیم۔'' تو بچے نے کہا:''جیم تو نورِجمالِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کا نام ہے، جو انسانوں پر صبح و شام اپنے انوار وتجلیات ڈالتاہے۔''استاد نے کہا:''اے بیٹے! پڑھو! حاء۔'' توبچے نے کہا:''حاءسے مراد اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد ہے،جس نے دلوں کی حفاظت کی اوربری خصلتوں سے پاک وصاف کردیا۔''استاد نے کہا:''اے بیٹے! کہو! خاء۔''توبچے نے کہا:''خاء سے مرادخوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ ہے،جس نے برگُزیدہ بندوں کی تمام تکالیف اور دکھ دَرد دُور کر دیئے۔''
یہاں تک کہ پادری بچے کو ایک ایک حرف پڑھنے کے لئے کہتارہا اور بچہ اس حرف کے متعلق ہم وزن و منظوم کلام سے جواب دیتا رہا۔ پادری کی عقل دنگ رہ گئی اور ایسی گفتگوسن کر اس کا دل زندہ ہو گیااور اس نے جان لیاکہ دینِ اسلام ہی سچا دین ہے۔ پھر کہنے لگا: اے وحدانیتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کو ماننے والے پیارے بچے! میں تجھے شاباش دیتا ہوں۔'' اس کے بعد بچے نے چند اشعار پڑھے، جن کا مفہوم کچھ یوں ہے:
''کیا وہی برحق نہیں جو رلاتا و ہنساتا ، زندگی و موت دیتا اور مخلوق کے لئے کھیتی اُگاتا ہے؟ یقینا وہی معبودِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ ہے لہٰذا جو اس کا دروازہ چھوڑ کر کسی اور کے دروازے پرجاتا ہے وہ نقصان اٹھاتاہے اور جو اسے چھوڑ کرکسی دوسرے کی عبادت کرتا ہے گمراہ ہو جاتا ہے ۔ اے خائب وخاسر کوشش کرنے والے! جب بندے کا مقصودِ حقیقی وہی ذات ہے تو اب کون اس مقصد کے غیر کی طرف کامیاب کوشش کر سکتا ہے؟ پس وہی برتر،غالب اور رحیم ہے کہ اس کی طاقت کے بغیرکوئی کسی کو نفع ونقصان نہیں پہنچا سکتا ۔ وہ اپنے بندے کو گناہ کرتے ہوئے دیکھتاہے پھر بھی اس کی پردہ پوشی فرماتاہے اور اس کو بن مانگے عطا کرتا ہے۔ عاصیوں اور گنہگاروں سے بخشش کامعاملہ کرتاہے ا ور ہجر وفراق کے ماروں کو وصال کی دولت سے نوازتاہے۔پاک ہے وہ ذات جس کے علاوہ حقیقی پروردْگار کوئی نہیں،وہ اپنے اس بندے کو پسند کرتا ہے جو اس کا حکم توجہ سے سنتا ہے۔''
راوی کہتے ہیں کہ جب پادری نے بچے کا ایسا کلام سنا جس نے اس کے ہوش اڑا دئیے اور اسے رنج و غم میں مبتلا کر دیا تو اس نے جان لیا اور اسے یقین ہوگیاکہ اس بچے کو قوتِ گویائی عطا کرنے والا وہی ہے جس نے مجھے پیداکیا ہے۔چنانچہ، اس نے دل ہی دل میں کلمۂ شہادت