Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
354 - 649
کے بعد چلے گئے تو وہ بچہ خوشی خوشی میرے پاس آیا ۔میں نے اس سے پوچھا:''بتاؤ! عید کا دن کیسا گزرا؟''اس نے کہا: ''اے میرے محترم ! آپ نے مجھے اچھا کپڑاپہنایا،مجھے خوش کر کے بچوں کے ساتھ کھیلنے کے لئے بھیجا ، میرے ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑا، اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو اپنی بارگاہ میں حاضری کی کمی پوری کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کے لئے اپنا راستہ کھول دے۔'' حضرت سیِّدُنا سری سقطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں کہ مجھے بچے کے اس کلام سے بے حد خوشی ہوئی جس نے عید کی خوشیاں دوبالا کردیں۔
(تذکرۃ الاولیاء،ج۱،حصہ اول،حضرت سیِّدُنا معروف کرخی علیہ رحمۃ اللہ الغنی،ص۲۴۲۔۲۴۳،ملخصاً )
عیسائی والدین کا قبولِ اسلام :
(2)۔۔۔۔۔۔حضرت سیِّدُنا عامر بن عبد اللہ کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی فرماتے ہیں کہ میرے پڑوس میں ایک عیسائی رہا کرتا تھا۔ ایک دن میں اپنے گھر میں موجود تھاکہ وہ میرے پاس آیااور کہنے لگا:''اے ابو عامر !پڑوسی ہونے کی حیثیت سے میرا آپ پر حق ہے،میں آپ کو رات اور دن کے خالق کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ '' مجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کسی ولی کے پاس لے چلئے تاکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے میرے لئے بیٹے کی دعا کرے۔ میرے دل میں اولاد کی بہت خواہش ہے اور میرا جگر جلتا رہتا ہے۔'' چنانچہ، میں اس کو ساتھ لے کر حضرت سیِّدُنا معروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی کی خدمت میں حاضر ہوا اورآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں اس عیسائی کا معاملہ عرض کیا۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اسے اسلام کی دعوت دی توکہنے لگا:''اے معروف! جب تک اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے ہدایت نہ دے آپ نہیں دے سکتے، میں آپ کے پاس صرف دعاکے لئے حاضر ہوا ہوں ۔''

    آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے ہاتھوں کو بلند کر کے دعاکی: ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ! میں تیری بارگاہ میں عرض کرتاہوں کہ اسے ایسا لڑکا عطا فرما جو والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرے اوروہ اس کے ہاتھ پر مسلمان ہو جائیں۔''چنانچہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اوراس کو ایک ایسا لڑکا عطافرمایاجو اپنی عقلِ کامل کے سبب تمام اہلِ زمانہ پرفوقیت لے گیا، وہ اپنی شرافت کی بلندی کے باعث اپنے جیسے تمام لڑکوں پر بلند مقام رکھتاتھا۔جب وہ کچھ بڑا ہوا تو باپ اسے عیسائیت کی تعلیم دلانے کے لئے ایک پادری کے پاس چھوڑآیا۔پادری نے اُسے سامنے بٹھایا اور ہاتھ میں تختی پکڑا کر ابھی ''بولو'' ہی کہا تھا تو وہ بچہ کہنے لگا: ''کیا بولوں؟ میری زبان تمہارے تین خداماننے کے عقیدے سے روک دی گئی ہے اور میرادل میرے رب عَزَّوَجَلَّ کی محبت میں مشغول ہے۔'' پادری کہنے لگا: ''اے بیٹے!میں نے تجھے یہ تو نہیں کہا تھا۔''تو بچے نے کہا :''پھر تم نے مجھے کیا کہا تھا؟'' پادری نے کہا: ''تم میرے پاس جس تعلیم کے لئے آئے ہو میں تو تمہیں وہ سکھا رہا ہوں جبکہ تم نے مجھے پڑھانا شروع کردیا ۔''یہ سن کر بچہ کہنے لگا: ''پھر مجھے کوئی ایسی بات بتلائیے، جسے میری عقل بھی قبول کر ے اور میرا ذہن بھی تسلیم کر ے۔''
Flag Counter