یعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !اے وہ ذات جس نے نیک بندوں کو اُمورِ خیرکی توفیق دی اور اس پر ان کی مدد بھی فرمائی! ہمیں بھی بھلائی کی توفیق عطا فرما اور اس پر ہماری مدد بھی فرما۔''
دُعائے معروف علیہ رحمۃ اللہ الرء ُوف کی برکات:
ایک شخص نے حضرت سیِّدُنامعروف کرخی علیہ رحمۃاللہ القوی کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: ''دعا فرمائیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ میرے دل کو نرم کر دے ۔''توآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اسے اس دعا کی تلقین فرمائی:
''یَا مُلَیِّنَ الْقُلُوْبِ! لَیِّنْ قَلبِیْ قَبْلَ اَنْ تُلَیِّنَہ، عِنْدَ الْمَوْتِ
یعنی اے دلوں کونرم فرمانے والے !میرے دل کو بھی نرم کر دے اس سے پہلے کہ تو موت کے وقت اسے نرم کرے۔''(آمین)
(1)۔۔۔۔۔۔حضرت سیِّدُناسری سقطی علیہ رحمۃاللہ العلی فرماتے ہیں کہ میں دل کی سختی کے مرض میں مبتلاتھا اور مجھے حضرت سیِّدُنا معروف کرخی علیہ رحمۃاللہ القوی کی دعا کی برکت سے چھٹکارا مل گیا۔ہوا یوں کہ میں نمازِ عید پڑھنے کے بعد واپس لوٹ رہا تھا کہ حضرت سیِّدُنامعروف کرخی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو دیکھا ۔آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ ایک بچہ بھی تھاجس کے بال اُلجھے ہوئے تھے۔دل ٹوٹنے کے سبب روئے جا رہاتھا۔میں نے عرض کی :''یاسیِّد ِی! کیا ہوا؟ آپ کے ساتھ یہ بچہ کیوں روئے جا رہاہے؟''توآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے جواب دیا:''میں نے چند بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھالیکن یہ بچہ ایک طرف کھڑا ہوا تھا۔ان بچو ں کے ساتھ نہ کھیلنے کی وجہ سے اس کا دل ٹوٹ گیاہے ۔میں نے بچے سے پوچھاتواس نے بتایا: ''میں یتیم ہوں، میرا باپ انتقال کر گیاہے، میرا کوئی سہارا نہیں اور میرے پاس کچھ رقم بھی نہیں کہ میں اخروٹ خرید کر ان بچوں کے ساتھ کھیل سکوں۔''چنانچہ، میں اس کو اپنے ساتھ لے آیا ہوں تاکہ اس کے لئے گُٹھلیاں اکٹھی کروں جن سے یہ اخروٹ خرید کر دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل سکے۔''میں نے عرض کی:''آپ یہ بچہ مجھے دے دیں تاکہ میں اس کی حالت بدل سکوں۔'' آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ''چلو اس کو پکڑ لو، اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہارا دل ایمان کی برکت سے غنی کرے اوراپنے راستے کی ظاہری و باطنی پہچان عطا فرما دے ۔''
حضرت سیِّدُناسری سقطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں:''میں اس بچے کو لے کر بازار چلاگیااور اچھے کپڑے پہنائے، اخروٹ خرید کر دیئے اور وہ عید کے دن دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنے چلا گیا۔دوسرے بچوں نے پوچھا:''تجھ پر یہ احسان کس نے کیا؟''اس نے جواب دیا:''حضرت سیِّدُنا معروف کرخی علیہ رحمۃاللہ القوی اورسری سقطی علیہ رحمۃاللہ القوی نے ۔''جب بچے کھیل کود