Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
352 - 649
اسے سلام کیااور اس نے بھی سلام کا جواب دیا۔ میں نے پوچھا:'' کہاں سے آرہے ہو؟'' کہنے لگا:'' دمشق سے آ رہا ہوں۔'' میں نے پھر پوچھا:''وہاں سے کب چلے تھے؟''جواب دیا:'' دوپہرکے وقت وہاں سے چلاتھا۔''مجھے اس پربڑا تعجب ہواکیونکہ دمشق او ر اس بستی کے درمیان بہت زیادہ مسافت اور کئی منزلیں تھیں۔بہرحال میں نے پھر پوچھا:''کہا ں کا ارادہ ہے؟''تواس نے جواب دیا: ''مکۂ مکرَّمہ
زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّتَکْرِیْماً
جانے کا ارادہ ہے۔''میں سمجھ گیاکہ اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا خاص لطف وکرم ہے۔ خیر میں نے اسے الوداع کہااور وہ چلاگیا۔تین سال کے بعدایک دن میں اپنے گھر میں بیٹھا سوچ میں ڈوبا ہوا تھاکہ دروازے پردستک ہوئی۔میں نے دروازہ کھولاتو وہی شخص تھا۔ میں نے سلام کرنے کے بعد کہا: ''خوش آمدید! اور اسے اپنے گھر آنے کی اجازت دے دی۔ایسا لگ رہا تھاجیسے وہ حسرت زدہ ،پریشان اور غمگین ہو۔ میں نے پوچھا:''کیا ہوا؟'' تو اس نے بتایا: ''اے استاذِمحترم! اللہ عَزَّوَجَلَّ کا مجھ پر خاص کرم ہے یہاں تک کہ پہلے اس نے مجھے مصیبت میں مبتلا کیا پھر اس سے نجات دی۔ وہ مجھ پر کبھی تو اپنے لطف و کرم کی بارش برساتا ہے اور کبھی خوف میں مبتلا کر دیتا ہے۔ کبھی بھوکا رکھتاہے اور کبھی معزز بنا دیتا ہے۔ کاش! ایک مرتبہ وہ مجھے اپنے کسی خاص بندے کے بھیدوں پر آگاہ فرمادے پھر میرے ساتھ جو چاہے کرے ۔'' حضرت سیِّدُنامعروف کرخی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں کہ اس کے اس کلام سے مجھے رونا آ گیا۔ میں نے مزید پوچھا:''جب سے تم مجھ سے جد اہوئے اس وقت سے تمہارے ساتھ کیا کیا معاملات پیش آئے ؟'' اس نے کہا: ''میں توان کو ظاہر کرنا چاہتاہوں لیکن وہ مخفی رکھنا چاہتا ہے۔''پھر وہ رونے لگا۔تو میں نے اس سے پوچھا:''بتاؤ تو سہی کہ تمہارے ساتھ کیا ہوا؟''چنانچہ، اس نے بتانا شروع کیا: ''آپ سے ملاقات کے بعد میں تیس (30)دن تک بھوکا رہا۔ ایک وادی میں پہنچا جہاں ککڑیاں کاشت کی ہوئی تھیں۔ میں پتوں کو توڑ کر کھانے بیٹھ گیا۔ مالک نے جب دیکھا تو مجھے پکڑ لیا اور میری پشت اور پیٹ پر مُکِّے مارتے ہوئے کہنے لگا:''اے چور!تیرے علاوہ میری ککڑیاں کسی نے نہیں توڑیں،میں کب سے تیری تاک میں تھاکہ توآئے اورمیں تجھے پکڑ لوں، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اب تومیں تجھے سخت سزا دوں گا۔''وہ ابھی مجھے مار ہی رہا تھاکہ ایک گھوڑے سوار بڑی تیزی سے گھوڑے کو سرپٹ دوڑاتا ہوا آیا، اس کے سر پر کوڑا برسایا اور کہنے لگا:''تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ایک دوست کو چور کہہ رہے ہواور اس کو مارتے اور ڈانٹتے ہو حالانکہ اس نے تو پتوں کے علاوہ کوئی چیز نہیں کھائی۔'' یہ سن کر وہ مالک میرے پاس آیا اور میرے ہاتھوں اور سر کو چومنے لگا۔پھر مجھ سے معذرت کی اور اپنے گھر لے جاکر بہت عزت کی اور حسن سلوک سے پیش آیا۔میرے لئے اپنی ککڑیاں فقراء و مساکین کو صدقہ کر دیں۔ پھر جب میں نے بتایا کہ میں حضرت سیِّدُنامعروف کرخی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے دوستوں میں سے ہوں تو اس نے آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے بارے میں کچھ بیان کرنے کو کہا۔ میں نے آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے کچھ اوصاف بیان کئے تو اس نے پہچان لیا۔''ابھی اس نوجوان کی گفتگو پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ ککڑیوں کے مالک نے دروازے پر دستک دی اور ہمارے پاس آگیا۔وہ
Flag Counter