Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
351 - 649
آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کاخوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ:
    حضرت سیِّدُناابو بکر بن ابی طالب علیہ رحمۃاللہ الخالق فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنامعروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی کی مسجد میں داخل ہوا۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ گھر میں تشریف فرماتھے ۔پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ہمارے پاس تشریف لائے۔ہم قافلے کی صورت میں تھے ۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ہمیں سلام کیا ہم نے بھی جواباً سلام پیش کیا۔پھر ہمیں دعا دیتے ہوئے فرمایا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ سب کو اسلامی مملکت میں سلامتی کے ساتھ زندہ رکھے اور دنیا میں ہم سب کو احسان کی نعمت سے نوازے اور آخرت میں ہماری مغفرت فرمائے۔'' پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اذان دینی شروع کی۔ جب آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ
''اَشْھَدُ اَنْ لَّا ۤاِلٰہَ اِلَّا اللہُ''
پر پہنچے توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پرشدَّتِ اضطراب سے لرزہ طاری ہوگیا اور اَبْرُو اور داڑھی کے بال کھڑے ہو گئے اور آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اس قدر بے چین ہوئے کہ مجھے خوف ہوا کہ اذان مکمل نہ کر سکیں گے پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اس قدر جھک گئے کہ قریب تھا کہ گر جاتے۔
(حلیۃ الاولیاء، معروف الکرخی، الحدیث۱۲۶۸۵، ج۸، ص۴0۴)
    حضرت سیِّدُناعبداللہ بن محمد وراق علیہ رحمۃاللہ الرزّاق فرماتے ہیں کہ کبھی کبھار ہم حضرت سیِّدُناابو محفوظ علیہ رحمۃاللہ الوَدود کی مجلس میں ہوتے اور آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ بیٹھ کر غور وفکر کر رہے ہوتے، پھراچانک آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ پر بے چینی طاری ہو جاتی اوربارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں عرض گزار ہوتے: ''وَاغَوْثَاہ، ''اے میرے مددگار! (یعنی اپنے حقیقی مددگار کو پکارتے)۔''
 (المرجع السابق، الحدیث ۱۲۷0۹،ص۴0۹)
    حضرت سیِّدُناقاسم بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی فرماتے ہیں :''میں حضرت سیِّدُنا معروف کرخی علیہ رحمۃ اللہ القوی کا پڑوسی تھا، ایک رات میں نے آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو گریہ وزاری کرتے اور درج ذیل اشعار پڑھتے سنا:
أیُّ شَیْءٍ تُرِیْدُ مِنِّی الذُّنُوْب		شَغَفَتْ بِیْ فَلَیْسَ عَنِّی تَغِیْب

مَا یَضُرُّ الذُّنُوْبُ لَوْ أعْتَقْتَنِی		رَحْمَۃً لِّیْ فَقَدْ عَلَانِیَ المَشِیْب
    ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔کون سی چیز مجھ سے گناہ کرانا چاہتی ہے، مجھے گناہوں میں مشغول رکھتی ہے اور مجھ سے دور نہیں ہوتی۔

    (۲)۔۔۔۔۔۔ اگر تو مجھے رحم فرماتے ہوئے بخش دے تو  گناہ مجھے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے، اب تو مجھ پر بڑھاپا آ چکا ہے۔
(صفۃ الصفوۃ، ذکر المصطفین من اھل بغداد، الرقم۲۶0معروف بن الفیرزان الکرخی،ج۲،ص۲۱۲)
ایک نوجوان کی حکایت:
    حضرت سیِّدُنایحیی بن حسن رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنامعروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی کو فرماتے سنا: ''میں نے ایک بستی میں خوبصورت اور صاف ستھرے لباس میں ملبوس ایک نوجوان دیکھا،اس نے زُلفیں رکھی ہوئی تھیں،سر پر اُونی چادر، جسم پر سُوتی کپڑے کی قمیص اورپاؤں میں لکڑی کا جوتا تھا۔مجھے اس کو اس جگہ دیکھ کر بڑی حیرانگی ہوئی۔پھر میں نے
Flag Counter