Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
350 - 649
اذان و اقامت کہتے تھے جبکہ امامت کوئی اور کرتا تھا۔''حضرت سیِّدُنامحمد بن ابی توبہ علیہ رحمۃ اللہ نے عرض کی: ''اگر میں تمہیں یہ نماز پڑھاؤں تو دوسری نماز کی امامت نہیں کروں گا۔'' یہ سن کرآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا:''کیا تم دوسری نماز کی اُمید کرتے ہو؟ ہم لمبی اُمیدوں سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ طلب کرتے ہیں کیونکہ یہ بہترین عمل سے روک دیتی ہے۔''
(حلیۃ الاولیاء، معروف الکرخی، الحدیث۱۲۶۸۸، ج۸، ص۴0۵)
    حضرت سیِّدُنا معروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی فرمایاکرتے تھے: ''دُنیاچار چیزوں کا نام ہے: (۱)۔۔۔۔۔۔مال(۲)۔۔۔۔۔۔کلام (۳)۔۔۔۔۔۔سونا اور (۴)۔۔۔۔۔۔ کھانا ۔کیونکہ مال سرکشی کا سبب ہے، کلام لہو و لعب میں مبتلا کر دیتا ہے،نیند غافل کر دیتی ہے اور کھانا دل کی سختی کا باعث ہے۔''

    حضرت سیِّدُناسری سقطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا معروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی کو یہ ارشاد فرماتے سنا: ''جس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مقابلے میں بڑائی چاہنے کا ارادہ کیاتووہ اُسے بری طرح پچھاڑ دے گا،جس نے اس سے لڑائی کا ارادہ کیا تو وہ اسے ذلیل کر دے گا، جس نے اس کو دھوکا دیناچاہا تووہ اسے اس کی سزا دے گا اور جس نے اس پر بھروسہ کیا تووہ اسے نفع دے گا اور جس نے اس کے لئے عاجزی کی تو وہ اُسے بلند رتبہ عطا فرمائے گا۔''
(سیر اعلام النبلاء،الرقم۱۴۲۵معروف الکرخی، ج۸، ص۲۱۸)
    حضرت سیِّدُنامعروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی کی بارگاہ میں عرض کی گئی: ''دل سے دنیا کی محبت نکالنے کا نسخہ کیا ہے؟''ارشاد فرمایا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ سے سچی محبت اور لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤکرنا۔ اور خالص محبت کی علامات تین ہیں:(۱)۔۔۔۔۔۔وعدہ پورا کرنا (۲)۔۔۔۔۔۔بغیرسوال کے عطا کرنا اور (۳)۔۔۔۔۔۔کوئی سخاوت نہ کرے پھر بھی اس کی تعریف کرنا۔اورمُحَبِّین کی علامات بھی تین ہیں: (۱)۔۔۔۔۔۔ رضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی جستجومیں رہنا (۲)۔۔۔۔۔۔ اسی کی ذات میں مشغول رہنا اور (۳)۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ اسی کی پناہ طلب کرنا۔''
(حلیۃ الاولیاء، معروف الکرخی، الحدیث۱۲۷۱۸، ج۸، ص۴۱۱)
مصائب پر صبر قربِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کا ذریعہ ہے:
    ایک شخص حضرت سیِّدُنامعروف کرخی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا:''یاسیِّدی!مجھے بتایئے کہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ تک کیسے رسائی حاصل کر سکتاہوں؟''تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اس کا ہاتھ پکڑ کر ایک امیر کے دروازے پر لے گئے۔ دروازے پرایک غلام کھڑا ہواتھاجس کی ایک ٹانگ ٹوٹی ہوئی تھی ۔آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس غلام کی طرف اشارہ کیا اور اس شخص کا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا:''اس کی مثل ہو جاؤ، خود ہی اللہ عَزَّوَجَلَّ تک رسائی حاصل کر لو گے۔''(یعنی جس طرح یہ غلام ٹوٹی ہوئی ٹانگ کے باوجود اپنے آقا کے در وازے پر حاضر ہے اس طرح تو بھی ہر حال میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی رضا پر راضی رہ اور اس کی عبادت کرتا رہ)۔
Flag Counter