| حکایتیں اور نصیحتیں |
کی: ''میں آپ کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم دیتاہوں کہ آپ ہمیں ضرور بتایئے؟''حضرت سیِّدُنامعروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی نے پوچھا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ تم پر رحم کرے، تمہیں کس نے یہ بات پوچھنے پر اُبھارا ؟''پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا چہرہ متغیَّر ہو گیا پھر ارشاد فرمایا: ''رات نمازِ عشاء کے بعد میرے دل نے بیت اللہ شریف کا طواف کرنے کی خواہش کی تو میں مکہ شریف جا پہنچا۔ طواف کر کے زمزم شریف کی طرف پانی پینے گیاتو اچانک ایک حسین صورت دکھائی دی۔ میری نظر اس پر جم گئی تو اچانک میرا پاؤں دروازے میں پھسل گیاجس سے میرے چہرے پر چوٹ لگ گئی۔پھر میں نے کسی کی آواز سنی:''اگرتم مزید دیکھتے تو مزید چوٹیں کھاتے۔''
حضرت سیِّدُناعلی حسن بن عبد الوہاب رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: '' لوگ کہتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا معروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی پانی پر چلتے ہیں، اگر مجھے کہاجائے کہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ہوا میں اڑتے ہیں تو میں اس بات کی بھی تصدیق کروں گا۔''
حضرت سیِّدُناعبد الوہاب رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنامعروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی سے بڑا زاہد کوئی نہیں دیکھا۔(تاریخ بغداد،الرقم۷۱۷۷معروف بن الفیرزان ابومحفوظ العابدالمعروف بالکرخی،ج۱۳،ص۲0۷)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ارشاداتِ عالیہ :
حضرت سیِّدُناابراہیم بکاء علیہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنامعروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی کو ارشاد فرماتے سنا: ''جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ فرماتاہے تواس کے لئے عمل کا دروازہ کھول دیتاہے اور بحث و مباحثہ کا دروازہ بند کر دیتاہے اور جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کسی بندے سے شَر کا ارادہ فرماتاہے تو اس کے لئے عمل کا دروازہ بند کر دیتاہے اور بحث و مباحثہ کادروازہ کھول دیتاہے۔''
(حلیۃ الاولیاء،معروف الکرخی،الحدیث۱۲۶۹0،ج۸،ص۴0۵)
حضرت سیِّدُنایحیٰ بن معین اورحضرت سیِّدُناامام احمد بن حنبل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہما دونوں اپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت سیِّدُنایحیی بن معین رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے کہاکہ میں ان سے سجدۂ سہو کے متعلق پوچھنا چاہتاہوں۔حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے خاموش رہنے کا حکم دیا لیکن وہ خاموش نہ رہے اور عر ض کی :''اے ابو محفوظ!آپ سجدۂ سہو کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟'' حضرت سیِّدُنامعروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی نے ارشاد فرمایا:''یہ دل کے لئے سزا ہے کہ وہ نماز سے غافل ہو کر دوسری طرف کیوں متوجہ ہوا۔'' یہ سن کرحضرت سیِّدُنااحمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا:''یہ بات آپ کی ذہانت پر دلالت کرتی ہے۔''
(تاریخ بغداد ، الرقم ۷۱۷۷معروف بن الفیرزان ابو محفوظ العابد المعروف بالکرخی،ج۱۳،ص۲0۱)
ایک دن حضرت سیِّدُنا معروف کرخی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے نماز کے لئے اقامت کہی۔پھرحضرت سیِّدُنامحمد بن ابی توبہ علیہ رحمۃ اللہ سے ارشاد فرمایا:''آگے بڑھ کر ہمیں نماز پڑھائیے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ امامت نہیں کراتے تھے ، بلکہ صرف