| حکایتیں اور نصیحتیں |
کرتے ہیں کہ ''جس نے اپنے مسلمان بھائی کی کسی حاجت کوپورا کیا اس کے لئے حج و عمرہ کرنے والے کی مثل ثواب ہے۔''
(تا ریخ بغداد ، الرقم ۲۸۷۴ ، احمد بن محمد ابو الحسن النوری ، ج۵ ،ص ۳۳۹)
(3)۔۔۔۔۔۔حضرت سیِّدُنامعروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی اپنی سند کے ساتھ حضرت سیِّدُناعمروبن دینارعلیہ رحمۃاللہ الغفَّار سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہمافرماتے ہیں: ''جس نے سوتے وقت یہ دعاپڑھی :
''اَللّٰھُمَّ اٰمَنَّا مِنْ مَّکْرِکَ وَلَا تُنْسِنَا ذِکْرَکَ وَلَاتَکْشِفْ عَنَّاسِتْرَکَ وَلَا تَجْعَلْنَا مِنَ الْغَافِلِیْنَ، اَللّٰھُمَّ ابْعَثْنَا فِیْ اَحَبِّ السَّاعَاتِ اِلَیْکَ حَتّٰی نَذْکُرَکَ فَتَذْکُرُنَا وَنَسْأَلَکَ فَتُعْطِیَنَا وَنَدْعُوَکَ فَتَسْتَجِیْبُ لَنَا وَنَسْتَغْفِرَکَ فَتَغْفِرُلَنَا
یعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! ہمیں اپنی خفیہ تدبیر سے محفوظ فرما، ہمیں اپنا ذکر نہ بھلا،ہمارے گناہوں کوچھپائے رکھ، ہمیں غافلوں میں سے نہ کر، اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! ہمیں اپنے پسندیدہ لمحات میں بیدار فرماکہ ہم تیرا ذکر کریں توتُوہماراچرچاکر ، ہم تجھ سے سوال کریں توتُو ہمیں عطا کر، ہم تجھ سے دعا کریں توتُو ہماری دعا قبول کر،ہم تجھ سے مغفرت چاہیں توتُو ہمیں بخش دے۔'' تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے پاس اپنی پسندیدہ ساعت میں (یعنی تہجد کے وقت) بیدار کرنے کے لئے ایک فرشتہ بھیجتاہے اگر وہ بیدار ہو جائے تو فبہا (یعنی ٹھیک ہے)، ورنہ وہ فرشتہ آسمان پر چلا جاتا ہے اور دوسرا فرشتہ بھیجا جاتاہے،وہ بیدار کرتاہے اگر وہ اُٹھ کر نماز ادا کرلے تو فبہا،ورنہ وہ فرشتہ بھی اپنے رفیق کے ساتھ جا کر کھڑاہوجاتاہے۔پھر اگر وہ شخص اُٹھ کر نمازِ تہجد پڑھے اور دُعا کرے تو اس کی دُعا قبول کر لی جاتی ہے اور اگر نماز نہ پڑھے تو بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے ان ملائکہ کا ثواب لکھ دیتا ہے ۔''
(کنز العمال،کتاب المعیشۃ والعادات قسم الاقوال ،باب رابع،فصل اول، الحدیث ۴۱۳۱۹ ،ج۱۵ ، ص ۱۴۹۔بتغیرٍقلیلٍ)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی کرامات:
حضرت سیِّدُنا ابنِ مردویہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت سیِّدُنامعروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی کی صحبت میں بیٹھے ہوئے تھے، اس دن میں نے آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا چہرہ مبارک کِھلاہوا دیکھ کر عرض کی: ''اے ابو محفوظ! مجھے پتا چلا ہے کہ آپ پانی پر چلتے ہیں؟''تو ارشادفرمایا:''میں کبھی پانی پر نہیں چلابلکہ جب میں پانی عبور کرنے کا ارادہ کرتاہوں تو اس کی دونوں طرفیں اکٹھی ہو جاتی ہیں اورمیں اس پر قدم رکھ کر چلنے لگ جاتا ہوں۔
حضرت سیِّدُنامحمد بن واسع رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں اذانِ مغرب کے وقت حضرت سیِّدُنامعروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی کے پاس تھا اس وقت آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے چہرے پر کسی چوٹ کا نشان نہ تھالیکن جب اگلے دن حاضر ہوا تو چوٹ کا نشان دیکھا۔میں نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے بزرگ جو کہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے خاصے مانوس تھے،سے عرض کی کہ''آپ ان سے اس کی وجہ پوچھئے۔'' چنانچہ، انہوں نے پوچھا:''اے ابو محفوظ !کل تک توآپ کے چہرے پر کوئی نشان نہ تھا، پھر آج یہ نشان کیسے بنا؟'' ارشاد فرمایا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں معاف فرمائے! فضول باتوں کے متعلق سوال مت کرو۔'' لیکن اس بزرگ نے پھر عرض