Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
347 - 649
قائم رہے،تو اس نے پہلے سے زیادہ سخت مارا،پیٹااور آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے والدین سے کہا: ''اس کو جیل خانے میں قید کر ا دو۔'' چنانچہ، آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ تین دن جیل خانے میں رہے، روزانہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے ایک روٹی پھینکی جاتی اور پینے کو ایک گھونٹ پانی دیا جاتا۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی والدہ نے روتے روتے آپ کے والد سے کہا:''آپ کابیٹا بہت چھوٹا ہے، مجھے ڈر ہے کہ کہیں پاگل نہ ہوجائے،اس کو جیل سے رہا کرا دو۔''چنانچہ، جب دروازہ کھولاگیاتو تینوں روٹیاں ویسی کی ویسی پڑی تھیں، والدین نے چلنے کو کہا توآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے انکار کر دیاپھر انہو ں نے پوچھا، ''تم قید خانے میں کیوں قید رہنا چاہتے ہو؟'' تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشادفرمایا: ''جس محبوب کی وجہ سے تم نے مجھے قید کیا میں نے اُسی کویہاں اپنے پاس پایا اور وہ بھی مجھ سے محبت کرتاہے۔''جب جیل والوں نے آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو قید سے آزاد کر دیا تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ گھر سے کہیں دور چلے گئے۔ کئی دن تک نہ کچھ کھایا پیا، نہ ہی کسی دیوار کے سائے میں بیٹھے۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے والدین رو رو کر کہتے: ''کاش! ہمارا بیٹا لوٹ آئے، چاہے کسی بھی دین پر ہو ہم اس کی پیروی کریں گے اور اُس کے مذہب کو اپنانے کے لئے تیار ہیں۔ کچھ عرصہ بعد آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، آواز آئی،''کون؟''فرمایا ،''معروف۔'' والدین نے پوچھا:''تمہارا دین کون سا ہے؟'' فرمایا، ''اسلام ۔'' والدین نے باہر نکل کر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو گلے سے لگا لیا۔ پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے ہاتھوں پر اسلام قبول کر لیا۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے مرویات:
(1)۔۔۔۔۔۔حضرت سیِّدُنامعروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی اپنی سند کے ساتھ حضرت سیِّدُنااَنَس بن مالک اورحضرت سیِّدُنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ ''ایک شخص نے سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب سینہ ،با عث ِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمتِ سراپا رحمت وبرکت میں حاضر ہو کر عرض کی : ''یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! کوئی ایسا عمل ارشاد فرمائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''غصہ چھو ڑدو ۔''اس نے عر ض کی:''اگر یہ نہ ہو سکے تو؟ '' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''روزانہ بعد نمازِ عصر ستر مرتبہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے استغفار کرو تو وہ تیرے ستر برس کے گناہ بخش دے گا۔'' عرض کی :''اگر میرے ستر برس کے گناہ نہ ہوں تو؟'' ارشاد فرمایا: '' پھر تیری والدہ کے ستر برس کے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔''پھر عر ض کی:''اگر میری ماں دنیاسے کوچ کر چکی ہو اور اس پر بھی ستر سال کے گناہ نہ ہوں تو؟''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' تیرے قریبی رشتے داروں کے ستر برس کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔''
(تاریخِ بغداد، الرقم۷۷۸0، ابوعلی المفلوج، ج۱۴، ص۴۲۵۔حلیۃ الاولیاء، معروف الکرخی، الحدیث۱۲۷۱۹، ج۸،ص۴۱۱)
(2)۔۔۔۔۔۔حضرت سیِّدُنامعروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی اپنی سند کے ساتھ حضر ت سیِّدُنا اَنَس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت
Flag Counter