Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
340 - 649
مقامِ معروف علیہ رحمۃ اللہ الرء ُوف:
    حضرت سیِّدُنا معروف کرخی علیہ رحمۃاللہ الغنی کی بارگاہ میں عرض کی گئی: ''حضور! آپ کیسے معروف ہوئے اور آپ محبت کی کس صفت سے متصف ہیں؟'' تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا:'' اے لوگو! تم پر تعجُّب ہے، کیا معروف کو جاہل رکھا جاتا ہے؟ کیا محبوب کو ناپسند کیا جاتا ہے؟ کیا نابینے کے علاوہ چاند کسی پر پوشیدہ ہوتاہے؟ کیاتم میرے دل کو گرفتارِ محبت نہیں پاتے؟ کیا میرے دماغ کو مشتاقِ دیدار اور میری عقل کو کھویا ہوا نہیں دیکھتے؟ میں نے محبتِ الٰہی میں کتنے ہی اُونی جُبِّے پھاڑ ڈالے اور موت کے کتنے پیالے گھونٹ گھونٹ کر کے پئے اور کتنی ہی بار محبت کے مشکل رُموز کو پڑھایہاں تک کہ میں اہلِ محبت کے درمیان معروف ہو گیا۔ اگر میں معروف نہ ہوتا تو سعادت کے راستے سے پِھر ا ہوا ہوتا۔ کیونکہ غرور کی چادر میں چھپنے والاسب پر ظاہر ہوجاتاہے اور جھوٹا دعویٰ کرنے والے کا دعویٰ رد کر دیا جاتاہے۔''
سیِّدُنافضیل بن عیاض رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی توبہ:
    حضرت سیِّدُنافضیل بن عیاض رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا گیا: ''اے فضیل! آپ ڈکیتی سے راہِ ہدایت پر کیسے آئے؟ اور بدبختوں کے گروہ سے نکل کر خوش بختوں کے گروہ میں کیسے شامل ہوئے؟''تو آپ نے جواب دیا:''میں توفیق سے بہت دور اور راہِ ہدایت سے بھٹکا ہوا تھا۔مگر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے گناہوں کے سمندر سے نکال کر نوازشات و انعامات سے ڈھانپ دیا۔'' عرض کی گئی:''یہ کیسے ہوا اور کس طرح راہِ حق آپ کے قریب ہوئی؟'' جواب میں فرمایا:''حسب ِ معمول ایک دن میں رہزنی کرنے کے لئے نکلا ، میرے ( برائی پر اُبھارنے والے) نفس نے مجھے شر کی بیڑیاں ڈال رکھی تھیں، زمانے نے مجھے دھوکے میں ڈالا ہوا تھا،شیطان مجھ پر غالب تھا۔ چنانچہ، میں قتل و غارت گری اور سواریوں کو پریشان کرنے چل پڑا۔ میں تاریکی کے پردوں میں چُھپا ہوا آرہا تھا اور راہِ ہدایت کا کوئی دروازہ مجھے معلوم نہ تھا کہ اچانک ہدایت کی توفیق کی جگہ مجھ پر ظاہر ہوئی، وہ یوں کہ ایک قاریئ قرآں اس آیتِ مبارکہ کی تلاوت کررہا تھا:
 (1) اَلَمْ یَاۡنِ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخْشَعَ قُلُوۡبُہُمْ لِذِکْرِ اللہِ
ترجمۂ کنز الایمان :کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد کے لئے۔(پ27، الحدید:16)

    میں نے اس کی طرف اپنے کان لگا دیئے۔ سنتے ہی میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اورمیرے دل کے ہوش اُڑ گئے۔ اسی کا اثر ہے کہ میں نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف رجوع کر لیا اور کلامِ باری تعالیٰ کا جواب دیتے ہوئے عرض کی: ''کیوں نہیں، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! وہ وقت آ چکاہے، میرے رحمن کی طرف رجوع کرنے اور نافرمانی سے خوفزدہ ہونے کا وقت آچکا ہے۔
Flag Counter