ترجمۂ کنز الایمان :اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔(پ27،الرحمن:46)
پھر میں ڈکیتی سے مُصَلِّے پر آگیا،راہِ شقاوت ترک کرکے سعادت کے راستے پر پلٹ آیا، اس کے قہرِقدرت کا قیدی بن گیا اور اس کے دروازۂ رحمت پر فقیر بن کر کھڑا ہوگیا۔ اس کے دروازۂ عزت پر عاجزی و انکساری کا سر جھکا دیااور میں نے عرض کی: ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ !تیرا بندہ بھاگے ہوئے غلام کی طرح تیری بارگاہ میں لوٹ آیا ہے اور تیرے گذشتہ فضل وکرم کا طلبگار ہے، صبح میں شکاری بن کر نکلا تھااب خود شکار ہوگیاہوں،قائد بن کر نکلا تھااب مطیع و فرمانبردار بن کر تیرے دروازے پر لوٹ آیا ہوں۔''(عیون الحکایات ،الحکایۃ الخامسۃ عشرۃ بعد المائتین،توبۃ الفضیل بن عیاض،ص۲۱۲)
راضی برضائے الٰہی رہنے والا عابد:
بنی اسرائیل میں ایک عابد کسی پہاڑ کے ایک غار میں رہا کرتاتھا۔ نہ لوگ اس کو دیکھتے نہ وہ لوگوں کو دیکھتاتھا۔اس کے ہاں پانی کا ایک چشمہ بھی تھا، وہ اس سے وضوکرتااور پانی پیتا۔ زمین میں اُگے ہوئے پھلوں سے غذا حاصل کیا کرتا تھا۔دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا۔ عبادت میں بالکل سستی نہ کرتا۔اس پر سعادت کے آثار نمایاں تھے۔جب حضرت سیِّدُناموسیٰ علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے اس کا شہرہ سنا تو اس سے ملاقات کرنے کاارادہ کیا ۔جب دن میں تشریف لے گئے تو وہ عابدنماز اور ذکر و اذکار میں مشغول تھا اور جب رات کو جانا ہوا تو وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں مناجات میں مستغرق تھا۔ حضرت سیِّدُناموسی علٰی نبیناو علیہ الصلٰوۃوالسلام نے اُسے سلام کرنے کے بعد فرمایا: ''اے شخص !اپنی جان پر نرمی کرو۔'' اس نے عرض کی :''اے اللہ کے نبی علیہ السلام! مجھے ڈر ہے کہ کہیں غافل نہ ہو جاؤں،موت کا وقت آجائے اور میں عبادتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں کوتاہی کرنے والوں میں نہ ہو جاؤں۔'' پھرحضرت سیِّدُناموسیٰ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام نے استفسارفرمایا: ''کیاکوئی حاجت و ضرورت ہے ؟''اس نے عرض کی: ''بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں عرض کیجئے کہ وہ مجھے اپنی رضا وخوشنودی عطافرما دے اورتادمِ آخر اپنے علاوہ کسی کی طرف مائل نہ کرے۔''چنانچہ، جب حضرت سیِّدُناموسیٰ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام جبلِ طُور پر مناجات کے لئے حاضر ہوئے اور کلامِ باری تعالیٰ کی لذت میں مستغرق ہوگئے تو آپ علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃوالسلام کو اس عابد کی بات یاد نہ رہی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے خود ہی ارشاد فرمایا: ''اے موسیٰ ! تجھے میرے عابد بندے نے کیا کہا؟''آپ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام نے عرض کی : ''یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ ! تو خوب جانتا ہے، اس نے مجھے کہاہے کہ میں تجھ سے دعا کروں کہ اسے اپنی رضا وخوشنودی عطافرمادے اور اپنے علاوہ کسی میں مشغول نہ کر یہاں تک کہ وہ تجھ سے آ ملے۔'' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:''اے موسیٰ! اسے جا کر کہہ دو کہ وہ دن رات میری