Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
339 - 649
اس کا علاج کر سکتا ہے ؟''تو اللہ تعالیٰ کے اس نیک بندے نے جواب دیا:''ہاں! وہ کر سکتاہے۔تم اس مجنون کولے آؤ۔'' لوگ اس کو لے آئے،اس کی گردن میں بیڑیاں پڑی ہوئی تھیں اور بہت بھاری زنجیروں سے ہاتھوں کو گردن کے ساتھ باندھ دیا گیا تھا۔ اس کی بیماری شدید تھی۔ اس اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ولی نے لوگوں سے فرمایا: '' مجھے اور اسے تنہا چھوڑ دو۔'' چنانچہ، اُن جاہل لوگوں نے مجنون کے ہاتھو ں کوکھول دیااوراُس گھر میں اکیلا داخل کر دیاجس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ولی رہتے تھے۔ پھر دروازہ بند کر دیا اور گمان کرنے لگے کہ یہ پاگل ان کے ساتھ کوئی ناپسندیدہ حرکت کریگا۔ تھوڑی دیر بعدجب لوگوں نے آواز دی تو مجنون نے ان کو جواب دیا اور باہر نکل کر سلام کیااور ایک سمجھ دار آدمی کی طرح گفتگوکی اس حال میں کہ وہ شدید رو رہا تھا۔لوگوں نے پوچھا: ''بتاؤ، کیا معاملہ ہوا؟''تو وہ کہنے لگا:''میں اس شخص کے پاس گیااور تم لوگ جانتے ہو کہ میں پاگل تھا۔ اس نے مجھے اپنے بالکل قریب کیا اور ایک ہاتھ میرے سینے پر پھیرا اور دوسرا میرے سر پر پھیرا۔ پھر میں نے عافیت محسوس کی اور میرا جنون ختم ہو گیا۔ لوگوں نے کہا:''چلو، ہمیں اس کے پاس لے چلو تاکہ ہم اس سے دعا کی درخواست کریں۔'' جب وہ لوگوں کو لے کراندر داخل ہوا تو دیکھا کہ وہ بزرگ وہاں موجود ہی نہ تھے، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کو لوگوں کی نظروں سے چھپا لیاتھا۔ حضرت سیِّدُناسہل بن عبد اللہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ وہ بزرگ بیتُ المقدَّس سے تشریف لائے تھے اور ان کا نام ادریس بن ابی خولہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ تھا۔
 (صِفَۃُ الصَّفوۃ، ذکر المصطفین من عباد بیت المقدس، الرقم۷۷۲، ادریس بن ابی خولۃ الانطاکی، ج۴،ص۲0۶)
سیِّدُناجنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی اور کالے رنگ کا آدمی:
    حضرت سیِّدُنا جنیدبغدادی علیہ رحمۃاللہ الھادی فرماتے ہیں کہ میں ایک سال حج کے لئے حاضر ہوا اور مکۂ مکرمہ
زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّتَعْظِیْماً
میں ہی رہنے لگا۔ ایک دن زَمزَم شریف کے کنوئیں کی طرف گیاتاکہ پانی سے سیراب ہوجاؤں لیکن وہاں پر کوئی رسی، ڈول یا مُشکیزہ نہ تھا۔ میں اسی حالت میں کھڑا تھاکہ ایک سیاہ رنگ کا آدمی آیا، اس کے ہاتھ میں ڈول اور رسی تھی۔ اس نے ڈول کو رسی باندھ کر کنوئیں میں لٹکا دیا لیکن وہ پانی تک نہ پہنچ سکا۔تو وہ ڈول، رسی اُٹھا کر کہنے لگا: ''تیری عزَّت کی قسم ! اگر تو نے مجھے پانی نہ پلایا تومیں ضرورتجھ سے ناراض ہوجاؤں گا۔'' یکایک پانی کنوئیں کے کناروں سے بہنے لگا، اس نے وضو کیا اور خود پینے کے بعد اپنے ڈول کو بھی بھر لیا، پانی دوبارہ کنوئیں کے پیندے تک پہنچ گیا۔جب وہ شخص روانہ ہوا تو میں بھی اس کے پیچھے ہو لیا اور عرض کی: ''اے میرے دوست!تم کس پر غصہ ہو رہے تھے؟''اس نے جواب دیا:''اے جنید! ایسی بات نہیں جیسے تم سمجھ رہے ہو، میں تو اپنے نفس پر غضب ناک ہو رہا تھا کہ( اگر مجھے پانی نہ ملتا تو) قیامت تک اُسے پیاسا رکھتا۔لیکن جب میرے مالک عَزَّوَجَلَّ نے مجھے اپنے دعوی میں سچا دیکھا تو میرے لئے پانی کو جاری کردیا۔''اس کے بعد وہ شخص میری نظروں سے اوجھل ہو گیا پھر کبھی نظر نہ آیا۔
Flag Counter