''جب سے میں نے اپنے محبوب کے زیورِحسن سے آراستہ جلوؤں کوآشکاردیکھاتواپنے شوق کی بے چینی کوبڑھادیا اور قرب و وصال کوپالیاپس اسی لئے اس معاملہ میں وجودمحبت کے سبب مجھے کھلی معرفت حاصل ہو گئی اورمیراپیمانہ بھرگیا۔''
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا ابو یزیدعلیہ رحمۃ اللہ المجید پردوسروں سے بڑھ کرکرم فرمایاتو انہوں نے دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی اورمیٹھے چشمے کے ہرمتلاشی ومریدپراپنے احوال کوڈال دیااوراپنے وجدکی ترجمانی کرتے ہوئے ،اپنی زندگی کے حاصل پر حیرت کرتے ہوئے اوراپنے احوال سے آگاہی دیتے ہوئے زبان حال سے کہنے لگے:
''کتنا بد نصیب ہے وہ شخص جو تیرے وصال کا اہل نہیں ہے۔وہ اپنے مقصد سے دور اور بے خبر ہے اگر وہ حقیقی عشق و محبت کا مزہ چکھ لیتا تو عشق ومحبت کی آگ سے بے چین و بے قرار ہو جاتا۔''
عنایت الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی کرنیں حضرت سیِّدُنا شیخ ابوبکرشبلی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے لئے روشن ہوئیں تو وہ ہدایت کے انوار اور محبت کے اسرار کے خواہش مندہوئے کیونکہ انہیں لوگوں کے درمیان جام محبت پلایاگیاتھااور خلوت وتنہائی میں محبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ نے ان کومخاطب کیاتھااوروہ اپنے دل میں اس سے کہنے لگے : ''مَرْحَبا اَہْلًا وَّسَہْلًا ''
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر خاص فضل فرمایاتووہ اس کی عبادت میں مستعدہوگئے اورراہِ طریقت کوطے کرکے حق آشنائی کے لئے ثابت قدم ہوگئے اورحقیقی منفعت کے عوض اپنے قلبی رازوں کوظاہرفرمادیا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا منصورحلاج رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پرمزاج کی تبدیلی کودائرفرمایاتووہ عشقِ حقیقی کے نشے میں مست ہوگئے ۔اورظاہرشریعت سے نکل گئے اور شوقِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی آگ میں راتوں کواُلٹ پلٹ ہونے لگے اورجب انہوں نے ساقی شہود کو اپنے وجودمیں تجلِّی فرمادیکھاتوزبانِ وجدسے ایسی بات ظاہرہوئی کہ ظاہری حدودسے باہرہوگئے ۔(اس پر حاشیہ166 صفحہ پر دیکھیں)