Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
337 - 649
بیان 33:             کراماتِ اولیاء رَحِمَہُمُ اللہُ

حمد ِ باری تعالیٰ:
    تمام خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جو دلیل کے ساتھ غالب ہوا اور اپنےمُحِبِّیْن پر تجلِّی فرمائی۔ ساری کائنات میں تصرُّف فرماتا ہے، والی مقرَّر کرتا اور معزول کرتا ہے۔ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے راہِ خداعَزَّوَجَلَّ میں بڑھ چڑھ کر جہاد کرنے کی توفیق عطا فرماتا ہے پھر وہ پیٹھ نہیں پھیرتا، اور اپنے بندے کو قیامُ اللیل کی توفیق عطا فرماتا ہے تو وہ اس کی اطاعت و عبادت میں خوب کوشش کرتا ہے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ سے سرگوشیوں میں لذت حاصل کرتا ہے۔ اور خوش بخت وہ ہے جو مالک و مولیٰ عَزَّوَجَلَّ کے مشاہدے سے کیف وسرور میں راتیں گزارتا ہے۔ رب تعالیٰ اسے محبت کے پیالوں سے قرب کے جام بھر بھر کر پلاتا ہے توعاشقِ صادق کا دل غلبۂ شوق سے بے چین ہوجاتا ہے پس وہ زبانِ ذوق سے پکار اُٹھتا ہے:

    ''سحری کے وقت ساقی نے جامِ محبت کے ساتھ تجلِّی فرمائی۔اس کے قرب سے وحشت دور ہو گئی اور کہا گیا:''اے وہ شخص جو وصالِ الٰہی کی طلب میں بے چین ہے، سُن لے!ہجر و فراق کا زمانہ گزر گیا، جدائی کا وقت ختم ہوگیااور دور کئے ہوئے کو قرب مل گیا۔ اے میرے محبوب بندو! اب وقت ہے، اگر تمہارا عزم پختہ ہے تو رات کی اُن تنہائیوں میں روحوں کو تھکاؤ جن میں کوئی ملامت کرنے والا بھی نہ ہو اور محب ِحقیقی کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہیں کرتا ۔''

    پاک ہے وہ ذات جس نے نظر حسنِ انتخاب سے اپنے اولیاء کو دیکھا اور انہیں اپنی عطا سے نعمتوں اور فضیلتوں سے نوازا۔ اس نے ان پر عطائیں اور احسانات فرمائے پھرانہیں مصائب میں مبتلاکیااورانہیں آزمائش میں ڈالا تو انہوں نے اس کی عطاؤں پرشکر اور آزمائشوں پر صبرکا دامن تھامے رکھا۔ارادۂ ازلی میں ان کے لئے سعادت مندی سے سرفرازی لکھ دی گئی ۔چنانچہ،وہ ان بھلائی والوں میں سے ہوگئے جن کے لئے بھلائی(یعنی جنت)اوراس سے بھی زائدنعمت(یعنی دیدارِالہٰی عَزَّوَجَلَّ)ہے کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں اس کا اہل بنا دیاہے۔

    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس گروہ میں سے حضرت سیِّدُنامعروف کرخی علیہ رحمۃ اللہ القوی کوبھلائی کے ساتھ خاص فرمایاتووہ اس کی محبت میں صفوں کی صفیں چیرکرآگے نکل گئے اورہلاکتوں کی جولان گاہ میں گھومتے رہے ۔مگراس کی محبت سے پیچھے ہٹے نہ ہی پیٹھ پھیری۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں اپنی محبت کی توفیق دی اور اپنی پاک بارگاہ کا قرب و وصال بخشا۔اور جب ان کومرتبۂ اتصال کی طرف ترقی دی تو جام وصال سے سیراب فرمایا پس وہ اس کا قرب پانے میں کامیاب ہوگئے اور کیف سرور میں زبان حال سے کچھ یوں گویاہوئے:
Flag Counter