Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
331 - 649
    حضرت سیِّدُنا یوسف بن صباغ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے کسی نے بتایاکہ میں نے خواب میں حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزَّت، محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی قبرِ انور کو کھودتے ہوئے دیکھاتو کسی کو بتائے بغیر حضرت سیِّدُنا ابن سیرین رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے اس کی تعبیر پوچھی۔ انہوں نے فرمایا: ''یہ شخص حضرت سیِّدُنا محمدِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی سنت کو زندہ کریگا۔
(تاریخ بغداد،الرقم۷۲۹۷النعمان بن ثابت ابو حنیفۃ التیمی،ذکرخبرابتداء ابی حنیفۃبالنظرفی العلم،ج۱۳،ص۳۳۵۔بتغیرٍ)
    حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایاکرتے: ''ہمیں حضور نبئ کریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے جو بات پہنچے ہم اُسے سر آنکھوں پر قبول کریں گے اور جو صحابۂ  کرام علیہم الرضوان سے ملے اس میں سے اختیار کریں گے اور اُن کے قول سے باہر نہیں نکلیں گے اور جو بات تابعینِ عظام ر حمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے ملے تو وہ بھی ہماری طرح انسان ہیں اور ان کے علاوہ کو بالکل نہیں سنیں گے۔''
    (سیر اعلام النبلاء،الرقم۹۹۴۔ابوحنیفۃ النعمان بن ثابت،ج۶،ص۵۳۶۔بدون''عن التابعین'')
مجالسِ علماء کا ادب:
    حضرت سیِّدُناعبدالعزیز دراوردی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ اورحضرت سیِّدُنا امام مالک بن اَنَس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو عشاء کے آخری وقت کے بعد مسجد ِ نبوی علٰی صاحبھا الصلٰوۃ والسلام میں بحث و مباحثہ کرتے ہوئے دیکھا۔ جب ان میں سے ایک اپنا مؤقف پیش کرکے خاموش ہوجاتاتو دوسرا بھی ڈانٹے، جھڑکے یا دوسرے کو غلط قرار دیئے بغیر چُپ ہو جاتا۔ پھر وہ دونوں اسی مجلس میں صبح تک نوافل پڑھتے رہتے۔

    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے انصاف اوراعتراف ِحق کا عالَم یہ ہے کہ ارشاد فر مایاکرتے: ''ہمارا یہ قول ایک رائے ہے اوریہ ہمارے قیاس میں سے بہترین رائے ہے۔اب جس نے اس سے بھی اچھی رائے پیش کی تو وہی زیادہ بہتر ہے۔''
 (تاریخ بغداد،الرقم۷۲۹۷النعمان بن ثابت ابو حنیفۃ التیمی،ما قیل فی فقہ ابی حنیفۃ،ج۱۳،ص۳۵۱)
قیامِ حق کے لئے کوششیں:
    جب حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوئی برائی دیکھتے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نرمی سختی میں بدل جاتی، آنکھیں سُرخ ہو کر چڑھ جاتیں، رَگیں پُھول جاتیں اورجب بھی کوئی خلافِ شرع کام دیکھتے تو اس کا قلع قمع کر دیتے۔ ایک دن ایک شخص کے پاس کچھ آلاتِ لہو ولعب دیکھے تو اس سے لے لئے۔ اس نے اَنْجانے میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زور دار ضرب لگائی،اس کے باوجود آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان آلات کو توڑ دیااور گھر لوٹ آئے۔ اور اس شدَّتِ ضرب کی وجہ سے دو ماہ تک گھر میں تنہا رہے۔
Flag Counter