| حکایتیں اور نصیحتیں |
حضرت سیِّدُنا خطیب بغدادی علیہ رحمۃاللہ الہادی ارشاد فرماتے ہیں: ''ایک مرتبہ حضرت سیِّدُناسفیان ثوری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں عرض کی گئی کہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ غیبت سے اتنے دُور رہتے ہیں کہ میں نے کبھی ان کو دشمن کی غیبت کرتے ہوئے بھی نہیں سنا۔تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! آپ اس معاملے میں بہت سمجھ دار ہیں کہ کسی ایسی چیز کو اپنی نیکیوں پر مُسلَّط کریں جوانہیں (دوسرے کے نامۂ اعمال میں) منتقل کردے۔'' حضرت سیِّدُناعلی بن عاصم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ''اگر نصف اہلِ زمین کی عقلوں سے امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عقل کا موازنہ کیا جائے تو بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عقل زیادہ ہو گی۔''
(تاریخ بغداد،الرقم۷۲۹۷،النعمان بن ثابت ابوحنیفۃ التیمی،ماذکر من وفورعقل ابی حنیفۃ وفطنتہ وتلطفہ، ج۱۳، ص۳۶۱)
منقول ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ حضرت سیِّدُناعلقمہ اور حضرت سیِّدُنا اسوَد رضی اللہ تعالیٰ عنہمامیں سے افضل کون ہے؟تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب میں فرمایا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !میں اس مقام پر نہیں کہ ان کا موازنہ کروں سوائے اس کے کہ ان کی عزَّت وعظمت کے پیشِ نظر ان کے لئے دُعا و اِسْتِغْفَار کرتا ہوں اور میں نہیں جانتا کہ ان میں افضل کون ہے۔ ''
(ربیع الابرار،باب التفاضل والتفاوت والاختلاف والاشتباہ وما قارب ذلک ووفاہ،ج۱،ص۳۵۳)
جُود وکرمِ امامِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ:
حضرت سیِّدُناقیس بن ربیع علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی کمائی سے مالِ تجارت جمع کرتے پھر اس سے کپڑے خرید کر مشائخ، محدثین اور حاجت مندوں کوپیش کرتے اور فرماتے : ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد و ثناء کرو کہ اُسی نے تمہیں یہ عطا فرمایا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں نے اپنے مال میں سے کچھ بھی نہیں دیا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں کوئی شخص حاضر ہوتاتو اس کے متعلق دریافت کرتے،اگر وہ محتاج ہوتا تو کچھ عطا فرماتے۔ چنانچہ، ایک شخص آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا، اس کے کپڑے بوسیدہ تھے،جب لوگ چلے گئے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے بیٹھنے کا حکم دیا جب وہ تنہا رہ گیا تو ارشاد فرمایا:''اس مُصَلّے کو اُٹھاؤاور نیچے سے ہزار درہم لے کر اپنی حالت اچھی کر لو۔''اس نے عرض کی: ''حضور! میں تو خوشحال ہوں، نعمتوں میں ہوں۔''تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ''کیا تمہیں یہ حدیث نہیں پہنچی کہ ''اللہ عَزَّوَجَلَّ پسند فرماتا ہے کہ وہ اپنی نعمت کا اثر بندے پر دیکھے۔''
(جامع التر مذی ،ابواب الادب ، باب ما جاء ان اللہ عَزَّوَجَلَّ یحب ان یری اثر نعمتہ علی عبدہ، الحدیث۲۸۱۹، ص۱۹۳۴)
تجھے اپنی حالت بدلنی چاہے تاکہ تیرا دوست تیری حالت سے غمگین نہ ہو۔''
(تاریخ بغداد، الرقم ۷۲۹۷، النعمان بن ثابت ابوحنیفۃ التیمی،ما ذکر من جود ابی حنیفۃ وسماحہ وحسن عہدہ، ج۱۳، ص۳۵۷۔۳۵۸، بتغیرٍ)
جو بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اپنی حاجت کا سوال کرتاآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اُسے پورا فرما دیتے ۔