Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
330 - 649
    اور وہی کہوں گاجوحضرت سیِّدُناعیسیٰ علیہ الصلٰوۃوالسلام نے بارگاہِ خداوندی میں اپنے نافرمان اُمَّتِیُوْں کے متعلق عرض کی تھی:
 (2) اِنۡ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ ۚ وَ اِنۡ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّکَ اَنۡتَ الْعَزِیۡزُ الْحَکِیۡمُ ﴿118﴾
ترجمۂ کنز الایمان :اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی ہے غالب حکمت والا۔(پ7،المائدہ:118)

چنانچہ، وہ خوارج تائب ہوئے اور آپ سے معذرت کی۔
(مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ رحمۃ اللہ تعالٰی للامام الموفق بن احمد المکی رحمۃ اللہ،ج۱،ص۴۲۱)
    منقول ہے کہ ایک عورت حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مسجد میں حاضر ہوئی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے رفقاء کے درمیان تشریف فرماتھے ۔اس نے ایک سیب نکالاجو ایک طرف سے سرخ اور دوسری جانب سے زرد تھا۔ اس نے بغیر کوئی بات کئے سیب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے رکھ دیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے دو ٹکڑے کر دیئے، عورت چلی گئی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے احباب اس ماجرے کو نہ سمجھ سکے۔چنانچہ، انہوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھاتو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''اس عورت کو کبھی سیب کی ایک جانب کی طرح سرخ خون آتاہے اور کبھی دوسری جانب کی طرح زرد خون آتاہے گویا وہ پوچھ رہی تھی کہ وہ خون حیض کا ہے یا طہر کا۔تو میں نے سیب کو توڑ کر اس کا اندرونی حصہ دکھایاجس سے میری مراد یہ تھی کہ جب تک اس سیب کی اندرونی سفیدی کی طرح سفیدی دکھائی نہ دے، طُہر نہیں ہوگا تووہ چلی گئی۔''

    سراج الا ُمَّہ، امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بصرہ میں داخل ہوا۔ سوچاتھاکہ جوبھی مجھ سے سوال کریگا میں اس کو جواب دوں گالیکن بصرہ والوں نے مجھ سے ایسے سوالات کئے کہ میرے پاس ان کا کوئی جواب نہ تھا۔پھر میں نے عزم کر لیا کہ آئندہ اپنے استاذحضرت سیِّدُناحماد علیہ رحمۃاللہ الرزّاق کی صحبت کبھی نہ چھوڑوں گا۔چنانچہ، بیس سال اُن کی صحبت میں رہا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ''میں ہر نماز میں اپنے والدین، تمام اساتذہ اور بالخصوص حضرت سیِّدُناحماد رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے لئے دعائے مغفرت کرتا ہوں۔
''(تاریخ بغداد، الرقم۷۲۹۷، النعمان بن ثابت ابوحنیفۃ التیمی، ذکر خبر ابتداء ابی حنیفۃ بالنظرفی العلم،ج۱۳،ص۳۳۴۔بتغیرٍ)
    حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھاگویا میں سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار بِاذنِ پروردگارعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی قبرِ اَقدَس کھود کر ہڈیاں نکال رہا ہوں اور ان کو صاف کر رہا ہوں۔ اس سے مجھے بہت زیادہ ڈر محسوس ہوا۔ میں نے حضرت سیِّدُناامام ابنِ سِیرِین رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے اپناخواب بیان کیاتو انہوں نے فرمایا: ''اگریہ خواب سچا ہے تو آپ رسولِ اَکرَم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی سنت کو زندہ کریں گے۔''
 (مناقب الامام الاعظم للموفق بن احمد المکی،الباب الخامس فی ابتداء جلوسہ للفتیا والتدریس،ج۱، ص۶۷،بتغیرٍ)
Flag Counter