منقول ہے کہ ایک دن حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں تشریف فرماتھے کہ خوارج کے کچھ سرغُنِّے اپنی تلواریں لہراتے ہوئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے :''اے ابوحنیفہ(رضی اللہ تعالیٰ عنہ )! ہم تم سے دو مسئلے پوچھتے ہیں، اگرتم نے جواب دے دیاتو بچ جاؤ گے ورنہ تمہیں قتل کر دیں گے( معاذ اللہ عَزَّوَجَلَّ)۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''اپنی تلواریں میان میں ڈال لو کیونکہ انہیں دیکھ کر میرا دل مشغول ہو جائے گا۔''وہ کہنے لگے :''ہم ان کوکیسے چھپا لیں حالانکہ ہم تمہاری گردن میں ڈال کربہت زیادہ اجر وثواب پائیں گے۔''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''چلو،جو پوچھناہے پوچھو۔'' انہوں نے پوچھا: ''دروازے پر دو جنازے ہیں: ان میں ایک شرابی ہے، اس کو اُچُّھو(۱) لگا اور نشہ کی حالت میں مر گیااور دوسرا جنازہ زنا سے حاملہ عورت کا ہے جو توبہ سے قبل ہی بچے کی ولادت سے مر گئی تو کیا وہ دونوں کافر مرے یا مسلمان؟''ان سوال کرنے والے خارجیوں کا مذہب یہ تھا کہ اگر کوئی مسلمان ایک گناہ بھی کر لے تو وہ کافر ہو جاتا ہے ۔ اب اگر امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان دونوں کو مسلمان کہتے تو وہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل کر دیتے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے استفسار فرمایا:''ان کا تعلق کس فرقے سے تھا؟کیا یہودی تھے ؟''انہوں نے کہا،''نہیں۔''پھرپوچھا،''کیاعیسائی تھے ؟''توکہنے لگے،'' نہیں''تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر پوچھا:''کیا مجوسی یعنی آگ کی پوجا کرنے والے تھے؟''جواب ملا، ''نہیں''تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا:''بت پرست تھے ؟''پھربھی جواب نفی میں پایا توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر پوچھا:''آخر وہ کون تھے ؟''انہوں نے کہا:''وہ مسلمان تھے۔'' تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:''جواب تو تم نے خود ہی دے دیا ہے۔''کہنے لگے، ''وہ کیسے؟''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''تم نے اعتراف کیا ہے کہ وہ مسلمان تھے۔لہٰذا تم کسی مسلمان کو کیسے کافر قرار دے سکتے ہو؟''انہو ں نے پھر پوچھا: ''کیا وہ جنتی ہیں یادوزخی؟''تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:''میں ان کے متعلق وہی کہوں گاجوحضرت سیِّدُناابراہیم علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے اپنی امت کے شریرو نافرمان لوگوں کے متعلق اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی تھی کہ ،