Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
328 - 649
قید کر دیا گیایہاں تک کہ وہیں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہو گیا۔
 (مناقب الامام الاعظم للکردری،الفصل السادس فی وفاۃ الامام،وذکر الشیخ عبد اللہ بن نصر الزاغونی،ج۲،ص۲۱،بتغیرٍ)
    حضرت سیِّدُناعبداللہ بن مبارک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تذکرہ ہوا تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ''کیا تم اس شخص کی بات کرتے ہو جس کے سامنے ساری دنیا پیش کی گئی پھر بھی اس نے ٹھکرا دی ۔''
 (التذکرۃ الحمدونیۃ،باب اول،فصل رابع فی اخبار تابعین وسائر طبقات صالحین رضی اللہ عنہم ۔۔۔۔۔۔الخ، ج۱، ص۵۴)
    حضرت سیِّدُنامحمد بن شجاع رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں عرض کی گئی: ''خلیفہ ابو جعفر نے آپ کو دس ہزار درہم دینے کا حکم دیاہے ۔''مگر آپ اس پر راضی نہ ہوئے ۔جب مال دینے کادن آیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نمازِ فجر پڑھتے ہی خود کو اپنے کپڑوں سے ڈھانپ لیااور کسی سے کوئی بات نہ کی ۔جب حسن بن قحطبہ کا قاصدمال لے کر آیا توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے بھی کوئی کلام نہ فرمایا۔ پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''جوشخص ہمارے پاس آیا ہے وہ ہم سے یوں کلام کریگا کہ ایک کلمہ کے بعد دوسرا کلمہ بولے گا یعنی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی عادت بتائی۔ پھر فرمایا: ''اس مال کو جراب میں ڈال کر گھر کے کسی کونے میں پھینک آؤ۔'' اس کے بعد جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گھر کے سامان کے متعلق وصیت کی تو بیٹے کوارشاد فرمایا: ''جب میری وفات ہو اور لوگ مجھے دفن کر دیں تو یہ تھیلی حسن بن قحطبہ کو دے دینا اور کہنا: ''یہ آپ کی امانت ہے جو آپ نے ابوحنیفہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے پاس رکھی تھی ۔''صاحبزادے فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد ِ محترم کے حکم پر عمل کیا۔ یہ دیکھ کرحسن بن قحطبہ کہنے لگا: ''تمہارے والد پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ہو، وہ اپنے دین پر کس قدر حریص تھے۔''
(المرجع السابق، ص۵۵)
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا علمی مقام:
     حضرت سیِّدُنا امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اُخروی اور دینی معاملات کا علم اورآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی معرفتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شدید خوف ِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ اور دُنیا سے بے رغبتی پر دلالت کرتی ہے۔

    حضرت سیِّدُنا ابن جریج رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے لوگو ں سے فرمایا: ''میں نے تمہارے اس کوفی امام نعمان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں سنا ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خوفِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے پیکر ہیں۔''
 (تاریخ بغداد،الرقم۷۲۹۷،ج۱۳،ص۳۵۵)
    حضرت سیِّدُناشریک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: '' حضرت سیِّدُناامام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت زیادہ خاموش اور ہمیشہ مُتَفَکِّررہتے اور لوگوں سے بہت کم بات کرتے ۔''
 (التذکرۃ الحمدونیۃ،باب اول،فصل رابع فی أخبار تابعین وسائر طبقات الصالحین رضی اللہ عنہم۔۔۔۔۔۔الخ ،ج۱،ص۵۴)
Flag Counter