Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
327 - 649
ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا حماد بن سلیمان، سیِّدُناعلقمہ بن مرثد، سیِّدُنا محارب بن دثار اور سیِّدُنا عون بن عبداللہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہم کی صحبت اختیار کی اور امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبت میں بھی رہا مگر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے زیاد ہ شب بیداری کرنے والا کوئی نہیں دیکھا، میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبت میں چھ ماہ رہا مگر کسی رات آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سوتے ہوئے نہ دیکھا۔ منقول ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نصف رات جاگاکرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہیں تشریف لے جا رہے تھے کہ کسی نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف اشارہ کر کے دوسرے شخص کو بتایا کہ یہی وہ ہیں جو تمام رات جاگ کر گزارتے ہیں۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ساری رات عبادت میں بسر کرنے لگے۔اور فرمایا: ''مجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے حیا آتی ہے کہ اس عبادت کے ساتھ میری تعریف کی جائے جو میں نہیں کرتا۔''
( المرجع السابق، ج۱۳، ص۳۵۳تا۳۶0۔التذکرۃ الحمدونیۃ، باب اوّل، فصل رابع فی أخبار تابعین وسائر طبقات الصالحین رضی اللہ عنہم وکلامہم ومواعظہم، ج۱، ص۵۴)
زُہد وتقوئ امامِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ:
    حضرت سیِّدُنا بشر بن ولید علیہ رحمۃاللہ الوحید سے منقول ہے کہ خلیفہ ابوجعفرمنصورنے امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف قاصد بھیجا اور عہدۂ قضاء آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سپرد کرنے کاارادہ کیا لیکن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انکار فرما دیا۔ابو جعفرنے قسم کھائی کہ تمہیں یہ کام ضرورکرنا پڑے گا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی قسم کھائی کہ میں ہرگز نہیں کروں گا۔حضرت سیِّدُنا ربیع رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے عرض کی: ''آپ دیکھتے نہیں کہ خلیفہ قسم کھا رہا ہے۔''تو فرمایا:''خلیفہ اپنی قسم کا کفارہ دینے پر مجھ سے زیادہ قادر ہے۔'' چنانچہ، خلیفہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قید کرنے کا حکم دے دیا۔ قید خانہ میں ہی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خیزران کے قبرستان میں سِپُردِخاک کیاگیا۔
 (تاریخ بغداد، الرقم۷۲۹۷، النعمان بن ثابت ابوحنیفۃ التیمی،ذکر قدوم ابی حنیفۃ بغدادوموتہ بھا،ج۱۳،ص۳۲۹/۴۲۴)
    دوسری روایت میں ہے کہ خلیفہ ابو جعفر منصور نے حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ، حضرت سیِّدُناسفیان ثوری اور حضرت سیِّدُناشریک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہم کو بلوایا۔تینوں تشریف لے گئے۔ اس نے حضرت سیِّدُناسفیان ثوری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے کہا کہ آپ بصرہ میں عہدۂ قضاء سنبھال لیں۔حضرت سیِّدُناشریک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے کہاکہ وہ کوفہ میں قضا کاعہدہ سنبھال لیں اور امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ میرے شہر اور اس کے قرب و جوار کی قضاء کامنصب آپ کے سپرد کیا جاتاہے۔آپ تینوں اپنی ذِمَّہ داریاں سنبھال لیں۔ پھر اپنے دربان سے کہاکہ ان کے ذمہ دار بن کر ساتھ جاؤ، اگر ان میں سے کوئی انکار کرے تو اس کو سو کوڑے لگانا۔چنانچہ، حضرت سیِّدُناشریک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے تو منصب ِ قضاء قبول کر لیا لیکن حضرت سیِّدُناسفیان ثوری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ یَمَن تشريف لے گئے اور امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی قبول نہ کیا توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سو کوڑے لگائے گئے اور پھر
Flag Counter