اس کے عوض ہی کچھ کھاتاہے اور اس کے بغیر کھانا بھی نہیں کھاتا۔سارادن نصف دانق(یعنی درہم کے چھٹے حصے)کے بدلے کام کرتا ہے۔ اگر کوئی چيز بِک جائے تو کھانا کھا لیتا ہے ورنہ بھوکا ہی رات بسر کرتا ہے۔ میرے دوسرے غلاموں نے مجھے بتایا ہے کہ یہ ساری رات عبادت کرتا ہے۔'' یہ سن کرمیں نے کہا، ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اگر تم نے یہ غلام مجھے نہ بیچا تو میں حضرتِ سیِّدُناسفیان ثوری اورحضرتِ سیِّدُنافضیل بن عیاض رَحِمَہُمَا ا للہُ تَعَالٰی کو ساتھ لے آؤں گا۔'' تو وہ بولا ،''اگر ایسا ہے تو میں آپ کی ضرورت پوری کرتا ہوں۔''
چنانچہ،وہ غلام میں نے اس سے خرید لیا۔ پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر راستے پر چلنے لگاراستے میں وہ میری جانب متوجہ ہو کر کہنے لگا: '' اے میرے آقا!''میں نے کہا،''لبیک۔''تو وہ بولا:''آپ لبیک نہ کہیں کہ غلام اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ لبیک کہے۔'' پھر کہنے لگا،'' میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم دے کر آپ سے پوچھتا ہوں کہ یہ تو بتائیں کہ آپ نے مجھ جیسے کمزور وناتواں غلام کو کیوں خریداحالانکہ میرے مالک نے مجھ سے زیادہ عمدہ غلام آپ کے سامنے پیش کئے تھے اور میں تو کسی کی خدمت کرنے سے بھی قاصر ہوں۔''میں نے اسے کہا ،'' اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں تیرا خادم بن کر رہوں گااورتجھ سے اپنا کوئی کام نہیں لوں گا۔''تو وہ بولا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام پر آپ مجھے بتائیں کہ آپ نے مجھے کس وجہ سے خریدا ۔'' تو میں نے اس کو گذشتہ واقعہ بتادیا اس پروہ کہنے لگا: '' یقینا آپ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نیک بندے ہیں کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مخلوق میں ستودہ صفات کے مالک اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ موجود ہیں اور وہ ان کا مقام ومرتبہ اپنے بندوں میں سے انہیں پر ظاہر فرماتا ہے جنہیں وہ پسند فرما لے۔''
حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مبارک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: پیدل چلتے چلتے ہمارا گزر ایک مسجد کے پاس سے ہوا تو اس غلام نے مجھ سے کہا،'' اے میرے آقا!اگر آپ کی اجازت ہو تو اس مسجد میں دو رکعت نمازاداکرلوں۔''میں نے کہا،'' ابھی تو ہم حضرتِ سیِّدُنافضیل بن عیاض رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے گھر جارہے ہیں،وہاں جاکر جتنی چاہے رکعتیں پڑھ لینا۔''وہ بولا،''مجھے کیا معلوم کہ میں ان کے گھر پہنچنے تک زندہ بھی رہوں گا یا نہیں؟ جبکہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکر ِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمانِ عالیشان ہے: ''جس کے لئے بھلائی کا دروازہ کھولا جائے تو اُسے چاہے کہ بھلائی کاکام مکمل کرے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ کب دروازہ بند ہو جائے۔''