Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
317 - 649
فام شخص دیکھا،اس پر دو چادریں تھیں، ایک تہبند کے طور پر اور دوسری جسم پر لپیٹی ہوئی تھی۔ وہ اس قدر رویا کہ آنسوؤں سے اس کے کپڑے بِھیگ گئے، پھرآسمان کی طرف منہ اٹھاکر کہنے لگا:'' گناہوں اور عیبوں کی کثرت کی وجہ سے چہرے رسوا ہو گئے ہیں ۔ اے میرے مالک عَزَّوَجَلَّ ! نافرمانیوں کی کثرت کی وجہ سے تیرے بندوں سے بارش روک دی گئی ہے، تیری مخلوق قحط سے ہلاک ہو رہی ہے اور بھوک میں مبتلا ہے اور تو سب کچھ جاننے والا ہے، بچے مضطرب و پریشان ہیں، مویشی ہلاک ہو رہے ہیں۔ میں تجھے تیرے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی عزت ووجاہت کے وسیلے سے قسم دیتا ہوں کہ اسی لمحہ بادل سے سیراب فرمادے، میں تیری بارگاہ میں تیرا ہی وسیلہ پیش کرتا ہوں اور تجھ پر ہی میرا اعتماد و بھروسہ ہے لہٰذا اپنی بارگاہ میں حاضر ہونے والوں کے گناہ معاف فرما دے اور ان کے جرموں کا مؤاخذہ نہ فرما۔ اے میرے مالک ومولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! اسی وقت بارش نازل فرما دے۔''

    حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مبارک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ابھی اس کی دعا مکمل نہ ہوئی تھی کہ بادل چھا گئے اور ہر طرف موسلا دھار بارش ہونے لگی۔ میں بیٹھ کر روتا رہا یہاں تک کہ جب وہ شخص حجرِ اسود سے دور جانے لگاتو میں بھی اس کے پیچھے ہو لیااور اس کے ٹھکانے کو پہچان لیا۔میں اس کی قیام گاہ کا دروازہ دیکھ کراپنے گھر لوٹ آیالیکن ساری رات مجھے نیند نہ آئی ۔ جب صبح ہوئی تو منہ اندھیرے ہی میں نے نمازِ فجر ادا کرلی اوراس مقام پر پہنچ گیا، اندر داخل ہو ا تو ایک خوبصورت نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ میں نے اسے سلام کیا، اس نے سلام کا جواب دیا اور مجھ سے پوچھا:''اے ابو عبدالرحمن! کیا کسی کام سے آئے ہو؟''میں نے کہا :''ہاں، میں ایک غلام خریدناچاہتاہوں۔'' اس نے کہا:''میرے پاس دس غلام ہیں،ان میں سے جو آپ کو پسند آئے لے جائیں۔''پھر اس نے ایک موٹے سے غلام کو بلا کر اس کے اوصاف بیان کئے۔میں نے کہا: ''مجھے اس کی ضرورت نہیں۔''پھر اس نے ایک ایک کر کے دس غلام میرے سامنے پیش کر دیئے لیکن میں نے یہی کہا کہ''مجھے ان میں سے کسی کی ضرورت نہیں۔''اب وہ بولا:''میرے پاس ایک زرد رنگ کے لاغر بدن ،سیاہ فام غلام کے سوا کوئی بھی باقی نہیں بچا لیکن اُس کی حالت یہ ہے کہ اگر لوگ ہنستے ہیں تو وہ رونے لگتاہے اور اگر لوگ اپنے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں تو وہ نماز پڑھنے لگتا ہے،ساری رات نہیں سوتا،ہاں! بعض اوقات حسرت و یاس سے کسی کو پکارتا رہتاہے،اپنی کمزوری کی زیادتی کی وجہ سے کسی کی خدمت کے قابل نہیں،اس کے باوجود میرا دل اس کو پسند کرتا ہے اور اسے دیکھ کر میں برکت حاصل کرتا ہوں۔''

     پھراس نے میمون کو آوازدی۔ جب وہ غلام باہر آیا تو میں نے اسے دیکھ کر پہچان لیا کہ یہ وہی شخص ہے۔میں نے کہا:''میں یہی غلام خریدناچاہتا ہوں ۔''وہ نوجوان بولا،'' میں تو اس کو بیچنے کی کوئی وجہ نہیں پاتا۔'' میں نے پوچھا، ''تم اِسے کیوں نہیں بیچنا چاہتے؟''وہ نوجوان بولا،'' میں اس سے مانوس ہو گیا ہوں اور اس کو دیکھ کر برکت حاصل کرتا ہوں، اس کے ساتھ ساتھ مجھے اس پر کچھ خرچ بھی نہیں کرنا پڑتا ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!یہ میرے پاس چراغ کی رسی کو بٹ کراورکھجور کے پتوں سے کچھ بنا کر