Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
319 - 649
اب آپ دوسروں کو بھی بتائیں گے اور میں نہیں چاہتا کہ میرا رازکسی پر ظاہر ہو ۔''پھر وہ سجدہ میں گرکر مسلسل رونے اور کلمۂ شہادت پڑھنے لگایہاں تک کہ اس کے جسم کی حرکت رُک گئی۔میں نے اسے حرکت دی تو وَاصِلْ بَحَقْ پایا (یعنی اس کی روح قَفَسِ عُنْصُرِی سے پرواز کر چکی تھی)۔

    حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مبارک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: میں اس کو وہیں چھوڑکرحضرتِ سیِّدُنافضیل اورحضرتِ سیِّدُناسفیان رحمۃاللہ تعالیٰ علیہما کو بُلا لایا،ہم نے مل کر اس کی تجہیزو تکفین کی۔اس کے بعد میں گھر آیا تومیرے دل میں اِک آگ سی لگی ہوئی تھی۔جب رات ہوئی تو میں اپنے اورادووظائف سے فارغ ہو کر سو گیا۔ خواب میں اچانک وہی غلام میمون ریشم کے دو شملوں میں ملبوس میرے پاس آیا،وہ مسکرا رہا تھا اور اس کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی۔مجھے سلام کر کے کہنے لگا:'' اے میرے آقا ! جب میں تمام آقاؤں کے آقا عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہواتو میں نے کھل کر اپنا حال بیان کیا اوریہ بھی عرض کیا کہ آپ نے بغیر کسی نفع وخدمت کے مجھے خریدا تو میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ''اے میمون !میں پوشیدہ و مخفی باتوں کو جانتا ہوں اور دلوں میں چھپی باتوں سے بھی باخبر ہوں، عبداللہ بن مبارک نے محض میری رضا کی خاطر تجھے خریدا تھا۔ لہٰذامیں نے تیرے سبب اور میری بارگاہ میں تیرے مقام ومرتبے کی وجہ سے اسے جہنم کی آگ سے آزاد کردیاہے۔''(پھر غلام نے کہا)اے میرے آقا! آپ نے میری جو قیمت ادا کی تھی، یہ لیں۔''حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مبارک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:'' میں رونے لگااور جب بیدار ہوا تو دیکھا کہ وہ درہم میرے ہاتھ میں ہیں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! جب بھی مجھے میمون کی یاد آتی ہے تواس کی جدائی پر رونے لگتا ہوں۔''
چٹان سے چشمہ بہہ نکلا:
    حضرتِ سیِّدُنامالک بن دینار رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک سفر کے دوران مجھے سخت پیاس لگی تو میں پانی کی تلاش میں اپنے راستے سے ہٹ کر ایک وادی کی جانب چل پڑا۔ اچانک میں نے ایک خوفناک آواز سنی، میں نے سوچا:شاید! یہ کوئی درندہ ہے جو میری طرف آرہاہے۔چنانچہ، میں بھاگنے ہی والا تھاکہ پہاڑوں سے کسی پکارنے والے نے مجھے پکار کر کہا:''اے انسان! ایسا کوئی معاملہ نہیں جس طرح تم سمجھ رہے ہو، یہ تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ایک ولی ہے جس نے شدَّتِ حسرت سے ایک لمبی سانس لی تو اس کی آواز بلند ہو گئی۔''جب میں اپنے راستے کی جانب واپس مڑا تو ایک نوجوان کو عبادت میں مشغول پایا۔ میں نے اسے سلام کیا اور اپنی پیاس کا بتایا تو اس نے کہا:''اے مالک !اتنی بڑی سلطنت میں تجھے پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ملا۔''پھر وہ چٹان کی طرف گیا اور پاؤں کی ٹھوکر مارکر کہا:''اس ذات کی قدرت سے ہمیں پانی سے سیراب کر جو بوسیدہ ہڈیوں کو بھی زندہ فرمانے پر قادر ہے۔'' اچانک چٹان سے پانی ایسے بہنے لگاجیسے چشمہ سے بہتاہے۔میں نے جی بھر کر پینے کے بعد عرض کی:''مجھے ایسی چیز
Flag Counter