اب آپ دوسروں کو بھی بتائیں گے اور میں نہیں چاہتا کہ میرا رازکسی پر ظاہر ہو ۔''پھر وہ سجدہ میں گرکر مسلسل رونے اور کلمۂ شہادت پڑھنے لگایہاں تک کہ اس کے جسم کی حرکت رُک گئی۔میں نے اسے حرکت دی تو وَاصِلْ بَحَقْ پایا (یعنی اس کی روح قَفَسِ عُنْصُرِی سے پرواز کر چکی تھی)۔
حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مبارک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: میں اس کو وہیں چھوڑکرحضرتِ سیِّدُنافضیل اورحضرتِ سیِّدُناسفیان رحمۃاللہ تعالیٰ علیہما کو بُلا لایا،ہم نے مل کر اس کی تجہیزو تکفین کی۔اس کے بعد میں گھر آیا تومیرے دل میں اِک آگ سی لگی ہوئی تھی۔جب رات ہوئی تو میں اپنے اورادووظائف سے فارغ ہو کر سو گیا۔ خواب میں اچانک وہی غلام میمون ریشم کے دو شملوں میں ملبوس میرے پاس آیا،وہ مسکرا رہا تھا اور اس کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی۔مجھے سلام کر کے کہنے لگا:'' اے میرے آقا ! جب میں تمام آقاؤں کے آقا عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہواتو میں نے کھل کر اپنا حال بیان کیا اوریہ بھی عرض کیا کہ آپ نے بغیر کسی نفع وخدمت کے مجھے خریدا تو میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ''اے میمون !میں پوشیدہ و مخفی باتوں کو جانتا ہوں اور دلوں میں چھپی باتوں سے بھی باخبر ہوں، عبداللہ بن مبارک نے محض میری رضا کی خاطر تجھے خریدا تھا۔ لہٰذامیں نے تیرے سبب اور میری بارگاہ میں تیرے مقام ومرتبے کی وجہ سے اسے جہنم کی آگ سے آزاد کردیاہے۔''(پھر غلام نے کہا)اے میرے آقا! آپ نے میری جو قیمت ادا کی تھی، یہ لیں۔''حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مبارک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:'' میں رونے لگااور جب بیدار ہوا تو دیکھا کہ وہ درہم میرے ہاتھ میں ہیں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! جب بھی مجھے میمون کی یاد آتی ہے تواس کی جدائی پر رونے لگتا ہوں۔''