Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
300 - 649
    حضرتِ سیِّدُنافضیل بن عیاض رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ مذکورہ آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''بروزِ قیامت ماں اپنے بیٹے سے ملے گی اور کہے گی:''اے میرے بیٹے!کیا تومیرے پیٹ میں نہ رہااور میرا دودھ نہ پیا؟'' و ہ کہے گا:''کیوں نہیں،اے میری ماں!'' ماں بولے گی : ''آج میں گناہوں کے بھاری بوجھ تلے دبی ہوئی ہوں،تو ان میں سے صرف ایک گناہ کا بوجھ اٹھالے۔''تو وہ کہے گا:''مجھ سے دور ہوجا، مجھے اپنی فکر پڑی ہے، میں دوسروں سے بے پرواہ ہوں۔''
(تفسیر القرطبی، الفاطر، تحت الآیۃ۱۸، الجزء الرابع عشر،ج۷،ص۲۴۷)
    اے میرے اسلامی بھائیو! ہمارے دل غفلت کے سبب جسموں سے نکل چکے ہیں،میں کب تک تمہیں نصیحتیں کرتا ہوں، زندوں کو مکان بنانے کی پڑی ہے ۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ ہماری لغزشوں اورگناہوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا؟ اے میرے بھائیو! غلطی اور کوتاہی نے ہمیں قید کر دیااور موت قریب آ پہنچی۔ ہم پر افسوس!ہمیں روزِمحشر کی ہولناکیوں اور صور کے پھونکے جانے کا سامنا ہے۔ اے میرے بھائیو! آخرکب تک توبہ میں دیرکرتے رہو گے؟ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! بڑھاپا آ رہاہے ،جوانی جا رہی ہے، تم  کب اپنے مالک عَزَّوَجَلَّ سے صلح کروگے؟اور کب اس کی بارگاہ میں پیش ہونے کی تیاری کرو گے؟کیا تمہیں دوستوں، عزیزوں کی موت اور اِس کے بعد پیش آنے والے معاملات سے عبرت حاصل نہیں ہوتی؟ کیا تم صور کے پھونکے جانے سے عبرت نہیں پکڑتے۔؟

    روایت میں ہے کہ جب کوئی نوجوان اپنے مالک عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کرتاہے تو فرشتے ایک دوسرے کوخوشخبریاں دیتے ہیں۔ دیگر فرشتے پوچھتے ہیں: کیا ہوا؟ تو ان کو کہا جاتاہے کہ ایک نوجوان نے خواب ِ غفلت سے بیدار ہو کر اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کر لی ہے ۔ پھر ایک اعلان کرنے والااعلان کرتا ہے:''اس نوجوان کی توبہ کے استقبال میں جنتوں کو سجا دو۔''

    حدیث شریف میں ہے کہ جب کوئی نوجوان گناہوں کی وجہ سے روتا ہے اور اپنے مالک و محبوب ِحقیقی عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں خطاؤں کا اعتراف کرتے ہوئے کہتاہے:''یااللہ عَزَّوَجَلَّ!  میں نے برائی کی۔'' تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے: ''میں نے پردہ پوشی کی۔''پھرعرض کرتاہے:''میں نادِم ہوں۔''جواب ملتاہے :''میں جانتاہوں۔''پھر عرض کرتاہے:''میں توبہ کرتا ہوں۔'' جواب آتا ہے: ''میں قبول کرتاہوں،اے نوجوان ! جب تو توبہ کرکے توڑ ڈالے تو ہماری طرف رجوع کرنے سے حیا نہ کرنا،اور جب دوسری مرتبہ توبہ توڑ دے تو تیسری مرتبہ ہماری بارگاہ میں حاضر ہونے سے شرمندگی تجھے نہ روکے، اورجب تیسری مرتبہ توڑدے تو چوتھی مرتبہ بھی ہماری بارگاہ میں لوٹ آنا،(کیونکہ)میں ایسا جوَّاد ہوں جوبخل نہیں کرتا،میں ایسا حلیم ہوں جو جلد بازی نہیں کرتا،میں ہی نافرمان کی پردہ پوشی کرتا اور تائبین کی توبہ قبول کرتاہوں، میں خطائیں معاف کرتا، ندامت کرنے والوں پر سب سے زیادہ رحم کرتا ہوں کیونکہ میں سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہوں۔ کون ہے جو ہمارے دروازے پر آیا اور ہم نے اسے خالی واپس لوٹادیا؟ کون ہے جس نے ہماری جناب میں التجا کی اور ہم نے اسے دھتکار دیا؟ کون ہے جس نے ہم سے توبہ کی اور ہم نے قبول نہ کی ؟ کون ہے
Flag Counter