ترجمۂ کنزالایمان:اور انہیں اللہ کی طرف سے وہ بات ظاہر ہوئی جو ان کے خیال میں نہ تھی۔(پ24، الزمر:47)
(پھر فرمایا) آنکھیں رونے کے درد کا ذائقہ کیسے نہ چکھتیں جبکہ وہ نہیں جانتیں کہ کون سی چیز اس رونے کو ختم کرے گی۔''
اے میرے اسلامی بھائیو!پرہیز گار چلے گئے اور ہم رہ گئے ہیں۔انہوں نے وصال پایا جبکہ ہم نے جدائی اختیار کی۔ انہوں نے مقصود پایا جبکہ ہم نے اسے کھو دیا۔ انہوں نے شرکِ (خفی یعنی ریا کاری) سے اجتناب کیا جبکہ ہم اس میں مبتلا ہوگئے۔ آؤ! ہم بھی ان کے نقش قدم پرچلیں اوران کی تعلیمات پر عمل کریں اور اپنے گناہوں پر ندامت کے ساتھ آنسو بہائیں۔
(7) وَ اِنۡ تَدْعُ مُثْقَلَۃٌ اِلٰی حِمْلِہَا لَا یُحْمَلْ مِنْہُ شَیۡءٌ وَّ لَوْ کَانَ ذَا قُرْبٰی ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:اور اگر کوئی بوجھ والی اپنا بوجھ بٹانے کو کسی کو بلائے تو اس کے بوجھ میں سے کوئی کچھ نہ اٹھائے گااگرچہ قریب رشتہ دار ہو۔(۱) (پ۲۲،فاطر:۱۸)
1 ۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل، سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''باپ یا ماں یا بھائی کوئی کِسی کا بوجھ نہ اُٹھائے گا۔ حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ'' ماں باپ بیٹے کو لپٹیں گے اور کہیں گے: اے ہمارے بیٹے! ہمارے کچھ گناہ اٹھالے ۔وہ کہے گا: میرے امکان میں نہیں، میرا اپنا بار کیا کم ہے؟۔''