| حکایتیں اور نصیحتیں |
پڑے گی،وقت کو فضولیات میں برباد کرنے پر وہ حسرت و افسوس کی آفت میں مبتلا ہیں عنقریب تمہیں بھی حسرت کی آفت میں مبتلا ہونا پڑے گا،وہ موت کی سختیوں سے ہمکنار ہوئے اور جلد ہی تمہیں بھی ان سختیوں کا شکار ہونا پڑے گا،انہوں نے اپنی آنکھوں سے ہولناکیوں کو دیکھاعنقریب تم بھی دیکھ لو گے۔ان سے اُن کے اعمال کا حساب لیاگیا اور جلد ہی تم سے بھی لیا جائے گا، ان میں سے کوئی تمنا کر ے گا کہ کاش! مال کے بدلے عذاب سے نجات مل جائے عنقریب تم بھی اس کی تمنا کرو گے، لہٰذا جلدی کرو! حساب کتاب کے دن اورخواہشوں کی ذلت سے پہلے پہلے توبہ کرلو، ابھی جوانی کی بہار ہے، بہت جلد اسے موت کے ہاتھوں فنا ہونا ہے، عنقریب تم اچانک آنے والی موت کے سائے میں ہو گے جس کاتم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَصَعِقَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنۡ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللہُ ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیۡہِ اُخْرٰی فَاِذَا ہُمۡ قِیَامٌ یَّنۡظُرُوۡنَ ﴿68﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور صور پھونکا جائے گا ،تو بے ہوش ہو جائیں گے ، جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں،مگر جسے اللہ چاہے ،پھر وہ دوبارہ پھونکا جائے گاجبھی وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہو جائیں گے۔(پ24،الزمر:68)
اے ابن آدم! اس وقت تیرا کیا حال ہو گاجب صور پھونکا جائے گااور قبر والے منتشر ہو جائیں گے،جو سینوں میں ہو گا ظاہر ہو جائے گا،معاملات تنگ ہو جائیں گے،چھپا ہوا سب ظاہر ہو جائے گااور ساری مخلوق قبروں سے اُٹھ کھڑی ہو گی۔فَاِذَا ہُمۡ قِیَامٌ یَّنۡظُرُوۡنَ ﴿68﴾
ترجمۂ کنزالایمان:جبھی وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہو جائیں گے۔ (پ24،الزمر:68)
وہ سب سے بڑا کیساعجیب دن ہو گا جس میں زلزلے ہوں گے اورپہاڑوں کو چلایاجائے گا،یکے بعد دیگرے ہولناکیوں کا سلسلہ ہوگا، امیدیں ختم ہو جائیں گی،حیلے کم ہو جائیں گے ، بائیں جانب والے خسارے میں ہوں گے، جوں ہی صور پھونکا جائے گا سب لوگ کانپتے ہوئے اپنی قبروں سے نکلیں گے۔فَاِذَا ہُمۡ قِیَامٌ یَّنۡظُرُوۡنَ ﴿68﴾
ترجمۂ کنزالایمان:جبھی وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہو جائیں گے۔(پ24،الزمر:68)
وہ ایسا دن ہے جس میں قدم پھسل رہے ہوں گے، عقلیں کمزور ہو جائیں گی، کچھ سمجھ نہ آئے گا، طویل عرصہ کھڑا رہنا پڑے گا، گناہ ظاہر ہوجائیں گے، کسی کوبولنے کی جراء َ ت نہ ہو گی اورموت کاجام پینے کے بعد لوگ قبروں سے زندہ نکلتے ہوں گے۔فَاِذَا ہُمۡ قِیَامٌ یَّنۡظُرُوۡنَ ﴿68﴾
ترجمۂ کنزالایمان:جبھی وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہو جائیں گے۔(پ24،الزمر:68)
پس وہ قیامت کا دن ہے، حسرت و ندامت کادن ہے،زلزلوں اور جھٹکوں کا دن ہے،اس دن گنہگاراور نافرمان اپنے گناہوں اور بدکاریوں کو دیکھ لے گا اور لوگ قبروں سے اٹھ کروعدے کی جگہ پر جا رہے ہوں گے۔فَاِذَا ہُمۡ قِیَامٌ یَّنۡظُرُوۡنَ ﴿68﴾
ترجمۂ کنزالایمان:جبھی وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہو جائیں گے۔(پ24،الزمر:68)
(5) یَوْمَ تُبْلَی السَّرَآئِرُ ۙ﴿9﴾
ترجمۂ کنزالایمان :جس دن چھپی باتوں کی جانچ ہوگی۔(پ30،الطارق:9)