| حکایتیں اور نصیحتیں |
(4) وَ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَصَعِقَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنۡ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللہُ ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیۡہِ اُخْرٰی فَاِذَا ہُمۡ قِیَامٌ یَّنۡظُرُوۡنَ ﴿68﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور صور پھونکا جائے گا ،تو بے ہوش ہو جائیں گے ، جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں،مگر جسے اللہ چاہے ،پھر وہ دوبارہ پھونکا جائے گاجبھی وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہو جائیں گے۔ (پ24،الزمر:68)
حضرتِ سیِّدُنا اسرافیل علیہ السلام (اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے) صورپھونکيں گے، جبکہ صور سینگ نماہوگا۔ اور بعض کے نزدیک حضرتِ سیِّدُنا حسن کی قراء َت کے مطابق یہ''صورۃٌ'' کی جمع ہے۔ انہوں نے ''وَنُفِخَ فِی الصُّوَرِ'' واؤ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہمافرماتے ہیں: ' 'حضرتِ سیِّدُنا اسرافیل علیہ السلام نے کبھی آنکھ نہیں جھپکائی۔'' یعنی جب سے ان کے ذمہ یہ کام لگاہے، وہ ایک پلک کو دوسری پر نہیں رکھتے کہ کہیں پَلک جھپکنے سے پہلے اُنہیں (صور پھونکنے کا) حکم نہ دے دیا جائے۔ اور اس نفخہ سے مراد نفخہ اُولیٰ ہے۔ ''صَعِقَ'' کا معنی ہے کہ وہ گھبراہٹ اور آواز کی شدَّت سے مر جائیں گے۔
''اِلَّامَنْ شَآءَ اللہُ'' کا مطلب یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ جنہیں چاہے گا انہیں گھبراہٹ سے محفوظ رکھے گا۔ اوریہ کون لوگ ہوں گے، اس بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ چنانچہ، ایک قول یہ ہے کہ وہ شہداء ہیں۔ بعض کے نزدیک ان سے مراد جبرائیل ، میکائیل وعزرائیل اور اسرافیل علیہم السلام ہیں۔ اور بعض نے کہا: '' وہ عرش اٹھانے والے فرشتے ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ تمام فرشتے مرادہیں،جبکہ ایک قول یہ بھی ہے کہ ان سے حور عِین مرادہیں۔پھر دوسری بار صور پھونکا جائے گا اور یہ دوبارہ اٹھائے جانے کے لئے ہو گا۔(المستدرک ،کتاب الاھوال ، باب ینتظر صاحب الصور متی یؤمر بنفخہ ، الحدیث ۸۷۱۹، ج۵، ص۷۷۴۔ العظمۃ لابی الشیخ الاصبھانی،صفۃ اسرافیل علیہ السلام،الحدیث۳۹۴/۳۹۳ ، ص۱۴۵، بتغیرٍقلیلٍ)
حضرتِ سیِّدُناابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ،حضورنبئ پاک، صاحب ِ لَولاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ حقیقت نشان ہے: ''اجسام زمین سے اس طرح نکلیں گے جیسے سبزہ ،اور روحیں شہد کی مکھیوں کی طرح نکلیں گی اور ناک کے بانسوں سے جسموں میں اس طرح سرایت کر جائیں گی جیسے زہر ، زہر خوردہ کے جسم میں سرایت کر جاتا ہے اور وہ سب ان ہولناکیوں کو دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے جن کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔''
( شعب الایمان للبیھقی،باب فی حشر الناس بعد ما یبعثون من قبورھم ،فصل فی صفۃ یوم القیامۃ ،الحدیث۳۵۳، ج۱،ص ۳0۹،بتغیرٍقلیلٍ)
اے میرے اسلامی بھائیو!غور کرو!تمہارے سب دوست، احباب اپنے حقیقی گھروں کی طرف کوچ کر گئے، عنقریب تمہیں بھی یہ سفر طے کرنااور قبر میں اترناپڑے گا،وہ سب دنیوی مال ودولت اور اپنے وطن چھوڑ کرچل بسے اور بہت جلد تمہیں بھی یہ سب کچھ چھوڑکر جانا پڑے گا، انہوں نے جدائی کا پیالہ گھونٹ گھونٹ کرکے پیا اب تمہیں بھی پینا پڑے گا، جس طرح انہیں اپنے اعمال کا سامناکرنا پڑا تمہیں بھی کرنا پڑے گا،انہیں اپنے برے اعمال پر ندامت و شرمندگی اٹھانا پڑی عنقریب تمہیں بھی اٹھانا