Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
295 - 649
    اللہ عَزَّوَجَلَّ طول و عرض میں پھیلی ہوئی تمام اشیاء کا بھی مالک ہے، اپنے بندوں کے فرائض وسنن قبول فرماتاہے ،سب کو اسی کی طرف لوٹنا اوراسی کی بارگاہ پیش ہونا ہے۔ چنانچہ، اپنی وسیع قدرت کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے
:وَلَہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ؕ کُلٌّ لَّہٗ قَانِتُوۡنَ ﴿۲۶﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اور اسی کے ہیں جوکوئی آسمانوں اورزمین میں ہیں، سب اسی کے زیر حکم ہیں۔(پ۲۱،الروم:۲۶)

    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انسان کومضبوط ومستحکم پیدا فرمایا،اوراس میں طاقت و قوت کوودیعت فرمایا۔ جیساکہ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے:
وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡشَاَکُمۡ مِّنۡ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الۡاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَہُوۡنَ ﴿۹۸﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور وہی ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا پھر کہیں تمہیں ٹھہرناہے اور کہیں امانت رہنابے شک ہم نے مفصل آیتیں بیان کردیں سمجھ والوں کے لئے۔(پ۷، الانعام: ۹۸)

    اس نے راہِ ہدایت کو ظاہر فرمایااوراس کے تمام راستوں کو بیان فرمایا، اور اپنے بندوں پر اپنی پے در پے ملنے والی نعمتوں کی تکمیل فرمائی،اوروحدانیت کا اقرار کرنے والوں کے چہرے روشن فرمائے تو ان کے چہرے مسکراتے اور کھِلکِھلاتے ہیں۔ چنانچہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآن پاک میں ایسوں کی شان یوں بیان فرماتا ہے:
لَا یَحْزُنُہُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ؕ ہٰذَا یَوْمُکُمُ الَّذِیۡ کُنۡتُمْ تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾
لَایُسْـَٔلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْـَٔلُوۡنَ ﴿۲۳﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اس سے نہیں پوچھاجاتاجووہ کرے اور اُن سب سے سوال ہو گا۔(پ۱۷،الانبیآء:۲۳)

    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تخلیقِ کائنات کی کاری گری کو مضبوط و مستحکم کیا، اپنی مخلوق کو وسیع رزق عطا فرما کر ان پراحسان و انعام فرمایا، اور ان کے مبہم رازوں کوجانتا ہے۔جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
لَا جَرَمَ اَنَّ اللہَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوۡنَ وَمَا یُعْلِنُوۡنَ ؕ
ترجمۂ کنز الایمان:فی الحقیقت اللہ جانتاہے جوچھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں۔(پ۱۴، النحل: ۲۳)
رَبُّ الْمَشْرِقَیۡنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیۡنِ ﴿ۚ۱۷﴾
ترجمۂ کنز الایمان:دونوں پورب کارب اور دونوں پچھم کارب۔(پ۲۷، الرحمن: ۱۷)

    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کائنات کو دو نوروں کے ساتھ منوَّر فرمایا یعنی ہر چیز کے دو جوڑے بنائے۔ چنانچہ،خود ارشاد فرماتا ہے:
وَ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیۡنِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۴۹﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اورہم نے ہر چیز کے دو جوڑے بنائے کہ تم دھیان کرو۔(پ۲۷،الذّٰرِیٰت: ۴۹)
بقیہ۔۔۔۔۔۔ واحد کے صیغہ سے ذکر فرمانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ باطل کی راہیں بہت کثیر ہیں اور راہِ حق صرف ایک دینِ اسلام۔یعنی باوجود ایسے دلائل پر مطلع ہونے اور ایسے نشان ہائے قدرت دیکھنے کے،دُوسروں کو حتّٰی کہ پتّھروں کو پُوجتے ہیں ۔باوجود یکہ اس کے مُقِرہیں کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا اللہ ہے۔''
Flag Counter