| حکایتیں اور نصیحتیں |
ترجمہ:میں اپنے گناہوں ،لغزشوں ،خطاؤں اور گناہ پر اصرار سے مغفرت چاہتی ہوں،اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ ! اے کریم ! میرے گناہوں کی مغفرت فرمادے ، اے بخشنے والے مہربان! میں نے امید کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا ہے۔
پھروہ غمگین و پریشان بیٹھ گئی ۔اور دوسری مضطرب و بے قرار ہوکرگریہ و زاری کرتے ہوئے پکارنے لگی:''اے تمام امیدوں کی انتہائي!اے نیکوں کو نیک اعمال پر ابھارنے والے! اے عارفین کے دلوں میں محبت کی قندیل روشن کرنے والے! اے وحشت زدوں کے انیس!اے دلوں کے طبیب!اے گناہوں کوبخشنے والے!میرا جسم تیری محبت سے پگھل رہا ہے،مجھے تیری بارگاہ میں پیش ہونے سے شرم آتی ہے،اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے ! مجھ پر اپنی خاص رحمت کا نزول فرما اور مجھ سے در گزر فرما۔پھروہ اِدھر اُدھرگھومنے لگی اور یہ اشعار پڑھ رہی تھی:اَتَیْتُکَ اَشْتَکِیْ سُقُمِیْ وَدَآئِیْ وَعِنْدَکَ یَا مُنٰی قَلْبِیْ دَوَآئِیْ فَلَآ اَحَدٌ سِوَاکَ اِلَیْہِ اَشْکُوْ فَیَرْحَمَ عَبْرَتِیْ وَ یَرٰی بُکَآئِیْ فَیَا مَوْلَی الْوَرٰی جُدْ لِیْ بِعَفْوٍ وَّمَنٍّ بِنَظْرَۃٍ فِیْھَا شِفَآئِیْ
ترجمہ:میں تیری بارگاہ میں اپنی کمزوری و بیماری کی درخواست لے کر حاضر ہوئی ہوں،اے میرے دل کی آرزو! میرے مرض کی دوا تیرے پاس ہے۔تیرے سوا کوئی نہیں جسے میں اپنی بیماری بتاسکوں اور وہ میری گریہ وزاری کو دیکھے اورمیرے آنسوؤں پر رحم کرے۔اے ساری مخلوق کے مالک ومولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! اپنی بخشش وکرم فرما کر مجھ پر احسان فرما ، اورایسی نظرِرحمت فرما دے جس میں میری شفا ہو۔
پھر وہ بیٹھ گئی اور تیسری کھڑی ہوئی ،وہ بھی کافی دیر تک روتی رہی۔ پھر عرض کرنے لگی:''یااللہ عَزَّوَجَلَّ!میرے گناہوں نے مجھے تیرے دروازے سے دُھتکار دیا ہے اور ہمیشہ کی غفلت نے تیری بارگاہ سے دور کر دیاہے ،میں تیرے دروازے پر ذلت و محتاجی کے ساتھ گناہوں اور خطاؤں کی معافی کی آس لگائے کھڑ ی ہوں، میں تیرے عذاب سے فرار ہو کرتیری پناہ میں آ گئی ہوں، پھر اس نے بھی چند اشعار پڑھے،جو یہ ہیں:بِبَابِکَ رَبِّیْ قَدْ اَنَخْتُ رَکَآئِبِیْ وَ مَا لِیْ مَنْ اَرْجُوْہ، یَا خَیْرَ وَاھِبِ سِوَاکَ فَجُدْ لِیْ بِالَّذِیْ اَنْتَ اَھْلُہٗ لَا ئعْطِیْ مِنَ الْاَفْضَالِ اَسْنَی الْمَوَاھِبِ اِذَا لَمْ اَمُتْ شَوْقًا اِلَیْکَ وَحَسْرَۃً عَلَیْکَ فَلَا بَلَغْتُ مِنْکَ مَآرَبِیْ
ترجمہ:اے میرے مالک عَزَّوَجَلَّ!تیرے دروازے پر میں نے ڈیرہ لگا لیا ہے، اے بہتر عطا کرنے والے! تیرے علاوہ میرا کون ہے جس سے میں اُمید رکھوں ، مجھ پراپنی شان کے مطابق جود وکرم فرما اور مجھے اپنا بہترین فضل عطا فرما، اگر میں تیرے شوقِ دیدار اور حسرتِ دیدار میں نہ مری تو اپنے مقصود کو نہ پہنچی۔
اس کے بعد وہ اپنی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی بہاتے ہوئے بیٹھ گئی۔ اورچوتھی لڑکی روتے ہوئے کھڑی ہوئی، وہ