| حکایتیں اور نصیحتیں |
حسرت کے عالم میں اپنے گناہوں کی معافی طلب کررہی تھی۔ چنانچہ، اس نے عرض کی : ''یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ! تو نے عبادت و ریاضت کرنے والوں کو حکم دیا کہ وہ تیرے دروازے پر کھڑے ہوں اور مجھے معلوم نہیں کہ میں ان میں سے ہوں یا نہیں۔ یااللہ عَزَّوَجَلَّ! اگر معاف کرنا تیری صفت نہ ہوتی توعبادت وکوشش کرنے والے جب گناہوں میں مبتلا ہوتے تو تیری بارگاہ میں نہ آتے۔ یااللہ عَزَّوَجَلَّ!اگر تو معاف نہ کر سکتا تو میں تجھ سے مغفرت کی امید نہ رکھتی۔بے شک تیری ہی یہ شان ہے کہ تو مجھ پر اپنی وسیع رحمت کے ساتھ کرم فرما سکتا ہے ۔ اے وہ ذات جس سے کوئی پوشیدہ سے پوشیدہ شئے بھی مخفی نہیں! اے وہ ذات جس کی نعمتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں! تو میرے گناہوں کی پردہ پوشی فرما، توہی میرا مطلوب ومقصودہے ۔''پھر اس نے درج ذیل اشعار پڑھے:
تَعَطَّفْتَ بِفَضْلٍ مِّنْکَ یَا مَالِکَ الْوَرٰی فَاَنْتَ مَلَاذِیْ سَیِدِیْ وَ مُعِیْنِیْ لَئِنْ اَبْعَدَتْنِیْ عَنْ جَنَابِکَ زَلَّتِیْ فَاِنَّ رَجَآئِیْ فِیْکَ حُسْنُ یَقِیْنِیْ وَظَنِّیْ جَمِیْلٌ اِنَّنِیْ مِنْکَ اَرْتَجِیْ عَوَاطِفَکَ الْحُسْنٰی فَخُذْ بِیَمِیْنِیْ
ترجمہ:اے مخلوق کے مالک عَزَّوَجَلَّ! اپنے فضل سے مجھ پر عنایت کی ہوا چلا دے۔تو میری پناہ گاہ ،میرا مالک اور میری مدد فرمانے والا ہے۔ اگر میری لغزشوں نے مجھے تیری بارگاہ سے دور کر دیا ہے تو کوئی غم نہیں کیونکہ تیرے متعلق مجھے حسنِ ظن ہے۔میرا حسن ظن یہ ہے کہ میں تجھ سے تیرے انعام و اکرام کی اُمید رکھو ں لہٰذا میری دستگیری فرما۔
حضرت سیِّدُنا محمد بن مروان رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے ان کی گفتگو اور دعا سن کر بہت سکون ملا اور ان کے نصیحت بھرے بیانات سے میری آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔ایک خائفہ کا خوف ِخدا عَزَّوَجَلَّ :
منقول ہے کہ ایک عورت کعبۃ اللہ شریف
زادھا اللہ تعالٰی شرفًا وتکریمًا
کے پاس رہتی تھی، جس کا نام حکیمہ تھا۔جب کعبہ مشرَّفہ
زادھا اللہ تعالٰی شرفًا وتکریمًا
کے دروازے کو کھلتا ہوا دیکھتی تو زور دار چیخ مار کر بے ہوش ہو جاتی۔ایک دن اس کی عدم موجودگی میں دروازہ کھولا گیا۔ جب وہ آئی تو اس سے کہا گیا: ''اے حکیمہ! آج (تیری عدم موجودگی میں) بیت اللہ شریف کا دروازہ کھولا گیا،اگر توطواف کرنے والوں کو حالتِ احرام میں تلبیہ
(لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ)
کہتے ہوئے دیکھ لیتی تو تیری آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتیں۔کیونکہ ان میں سے ہر ایک کا دل شوق سے زخمی تھا اور وہ اپنے رب کی طرف سے رحمت و مغفرت کا انتظار کر تے ہوئے عاجزی و انکساری سے گریہ کناں تھے۔'' یہ سنتے ہی اس نے ایسی چیخ ماری جس سے دِل گھبرا جائیں،اورپھر کچھ دیر تڑپتی رہی یہاں تک کہ اس افسوس میں اس نے اپنی جان قربان کردی کہ وہ اپنا مطلوب نہ پا سکی اور نیک بندوں کے گروہ میں کعبہ مشرَّفہ
زادھا اللہ تعالٰی شرفًا وتکریمًا
کی زیارت نہ کر سکی اور دُنیا میں کوئی چیزاس کے لئے اس نعمت کا عوض یا بدلہ نہ بنائی گئی لہٰذا ا س نے اپنی جان قربان کر دی۔