| حکایتیں اور نصیحتیں |
حاضر ہوئیں ، ان کو آپ کی بینائی چلے جانے کا بہت غم ہوا،آپ نے گریہ و زاری کرتے ہوئے اپنے سر کو آسمان کی طرف بلند کر کے بارگاہِ ربُّ العزَّت میں یوں عرض کی : ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ! تیری عزت کی قسم!میری آنکھوں کا نور چلا گیاتو کیا ہوا؟ تیری بارگاہ میں حاضری کے شوق کے انوار تو ابھی باقی ہیں۔'' پھر احرام باندھ کر ''
لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ''
کہتے ہوئے اپنی رفقاء کے ساتھ چل پڑیں ۔ آپ ان کے ساتھ چلتے ہوئے کبھی آگے نکل جاتیں۔ حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃ اللہ الولی فرماتے ہیں کہ مجھے اس کے حال پر بڑا تعجب ہوا تو ہاتف ِ غیبی سے آواز آئی: ''اے ذوالنون !کیا تم اس بڑھیا پر تعجب کرتے ہوجسے اپنے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ کے گھر کا شوق تھا پس اللہ عَزَّوَجَلَّ نے لطف وکرم فرماتے ہوئے اسے اپنے گھر کی طرف چلا دیا اور اس کی طاقت عطا فرمائی۔''
زَادَھا اللہُ تعالٰی شرفًا وتکریمًا
میں رُکنِ یمانی کے قریب طواف میں مشغول تھاکہ اچانک چار لڑکیوں کو آتے دیکھا ،ان پر مقبولیت کے آثار نمایاں تھے ۔ان میں سب سے بڑی نے غلافِ کعبہ سے لپٹ کر عاجزی و انکساری کا اظہار کرتے ہوئے بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں عرض کی:
اِلَیْکَ حَجِّیْ لَا لِلْبَیْتِ وَالْحَجَرْ وَلَا طَوَافَ بِاَرْکَانٍ وَّلَا جُدُرْ
ترجمہ:میرا حج تو صرف تیرے لئے ہے،نہ بیت اللہ شریف کا،نہ حجرِ اَسود کا، نہ ارکان کا طواف اور نہ ہی دیواروں کا ۔
پھر اس نے اپنے سر کو بلند کر کے عرض کی: ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ !تیری محبت نے مجھے مضطرب کر دیا ہے اور میں عشق و محبت میں گرفتار ہو گئی ہوں،اب میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں،یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! اگر میری لغزشوں نے مجھے تیری بارگاہ سے لوٹا دیا تو مجھے میری محبت تیرے دروازے پر کھینچ لائے گی ۔اگر میرے گناہوں نے مجھے تیرے دروازے سے دور کر دیا تو تیرے عفووکرم کی امید مجھے تیرے قریب کر دے گی۔ اگر میری خطاؤں نے مجھے قید کرا دیا توتیری طرف رجوع میں میرا اخلاص مجھے آزاد کرا دے گا۔ یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! مجھے تیرا وصال کب حاصل ہو گا،تیری بارگاہِ جمال تک کب پہنچوں گی ؟اے وحشت زدوں کے دوست! اے محبین کے محبوب ! اے خائفین کو پناہ دینے والے! اے گنہگاروں پر رحم کرنے والے اور اے تائبین کی توبہ قبول فرمانے والے!اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے ! مجھ پر اپنی خاص رحمت کا نزول فرما اور میری مغفرت فرما۔''پھر اس نے لمبا سانس لیا اور چند اشعار پڑھے :اَسْتَغْفِرُ اللہَ مِمَّا کَانَ مِنْ زُلَلِیْ وَ مِنْ ذُنُوْبِیْ وَتَفْرِیْطِیْ وَاِصْرَارِیْ یَا رَبِّ ھَبْ لِیْ ذُنُوْبِیْ یَا کَرِیْمُ فَقَدْ اَمْسَکْتُ حَبْلَ الرَّجَاءِ یَا خَیْرَ غَفَّارِ
چار مقبول لڑکیاں:
حضرت سیِّدُنا محمد بن مروان علیہ رحمۃاللہ المنان، جو فقر و تقویٰ اورپرہیزگاری اختیار کرنے والوں میں سے تھے، فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں کعبہ مشرَّفہ