Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
280 - 649
    حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃاللہ الاکرم نے جب اپنی زوجہ محترمہ کو چھوڑا تھا تو وہ حاملہ تھیں،ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا، جس کا نام گھر والوں نے دادا کے نام پر رکھا۔ جب وہ بڑا ہوا اور جوانی کی حدود میں قدم رکھا تو اپنی والدہ سے پوچھا : ''اے میری ماں ! کیا میرے والد نہیں؟''تو والدہ نے جواب دیا :''کیوں نہیں ،اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! تمہارے والد ہيں۔ ''اس نے پھر پوچھا: ''وہ کہا ں چلے گئے؟''ماں نے جواب دیا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کی تلاش میں۔'' نوجوان بیٹے نے عرض کی: ''اے میری والدۂ محترمہ! پھر آپ مجھے بھی جانے دیں،میں بھی اسی کو تلاش کرتا ہوں جسے میرے والد ِمحترم تلاش کر رہے ہیں،شاید! میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاؤں۔''ماں نے کہا :''تجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اے میرے بیٹے!تیرے باپ کی جدائی سے میرا دل بہت جَلا ہے، اب تو اپنے فراق سے میرے دل کو مزید نہ جلا۔'' چنانچہ، وہ فرمانبرداربیٹااپنی ماں کی خوشی کی خاطر رُک گیا حتّٰی کہ ماں کا انتقال ہو گیاتو وہ بہت غمگین رہنے لگا، کیونکہ اب نہ اس کی ماں تھی،نہ اسے باپ کا پتہ تھا۔ پھر وہ نوجوان ننگے پاؤں گھر سے نکل پڑا، لوگوں سے ڈرتے ڈرتے ویران مساجد میں راتیں گزارتا ،دروازوں سے کھانے کے لقموں کا سوال کرتا ، یہاں تک کہ مکہ مکرَّمہ پہنچ گیا۔ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃاللہ الاکرم طواف میں مشغول تھے، اورآپ کے کچھ مرید بھی آپ کے ساتھ طواف کر رہے تھے۔جب آپ کی نظر ایک نوجوان لڑکے پر پڑی تو بے ساختہ آپ کی نگاہیں اس پر جم گئیں،آپ کے ارادت مندوں نے عرض کی :''حضور! اس عظیم مقام اور بابرکت وقت میں یہ کیسی غفلت ہے کہ آپ ایک خوبصوت نوجوان لڑکے کو غور سے دیکھ رہے ہیں۔ آپ رونے لگے اور ایک مُرید سے فرمایا: ''اس کے پاس جاؤ اور پوچھو، یہ کون ہے؟'' مرید نے اس کے پاس جا کر سلام کیا،اور بعد ِ سلام پوچھا : ''اے نوجوان! کہاں سے آئے ہو؟'' اس نے جواب دیا: ''عجم کے شہر بلخ سے ۔''پھر پوچھا: ''کس کے بیٹے ہو؟''جواب دیا:''یہ تو مجھے معلوم نہیں،ہاں!میری والدہ محترمہ نے مجھے بتایا تھاکہ تمہارے باپ کا نام ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃاللہ الاکرم ہے۔''پھر اس کے رخسار پر موتیوں کی طرح آنسوؤں کی لڑی بن گئی۔

     وہ مرید فرماتے ہیں :''میں اپنے پیرو مرشد حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃاللہ الاکرم کے پاس لوٹا اور دیکھا کہ آپ بھی رو رہے ہیں حتّٰی کہ آپ بےہوش ہو گئے، تو میں آپ کے سرِ اقدس کے پاس بیٹھ گیااور جب آپ کو افاقہ ہوا تو میں نے عرض کی: ''اے میرے مرشد! اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ سے اس نوجوان بیٹے کا حق ضرور وصول کریگا۔'' آپ نے فرمایا: ''خدا کی قسم! یہ میرا بیٹا ہے،اس کو میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے چھوڑدیا تھا، اب میں اس کو واپس لینا نہیں چاہتا۔''میں نے عرض کی:'' حضور! میں آپ کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا واسطہ دیتا ہوں کہ اس کے پاس چلئے۔'' چنانچہ، آپ تشریف لے گئے،اس نے پوچھا :''آپ کون ہیں؟'' فرمایا: '' میں تمہارا باپ ابراہیم بن ادہم ہوں۔''پھر آپ نے اس کو اپنے سینے سے لگا لیا اور بارگاہِ ربُّ العزَّت میں عرض گزار ہوئے:''یا اللہ عَزَّوَجَلَّ !یہ میرا بیٹا ،میرے جگر کا ٹکڑا میری تلاش میں آیا ہے، او رتو جانتا ہے کہ میرے دل میں اس کے لئے کتنی