Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
279 - 649
سلطنت دے کر درویشی خریدی:
    حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃاللہ الاکرم خراسان کے بادشاہ تھے،ایک دن اپنے لشکر کے درمیان گھوڑے پر سوار تھے کہ آپ نے گھوڑے کی زین سے کسی پکارنے والے کی ندا سنی:''اے ابراہیم! ہمارے بندے اس لئے نہیں پیدا کئے گئے،اور نہ ہی ہم سے محبت کرنے والوں کو اس کا حکم دیا گیا ہے، لہٰذا اپنی چاہت کو میری چاہت پر قربان کر دو،وگرنہ تم اہلِ عناد میں سے ہو جاؤ گے۔''آپ فرماتے ہیں:''اس آوازنے میرے دل میں تیر پیوست کر دیا،میں نے اپنے ملک وسلطنت اور اہل وعیال کو چھوڑا اور اسی کی طرف حیران وپریشاں نکل گیا جس پر مجھے بھروسہ و اعتماد ہے۔''

    جب حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃاللہ الاکرم اپنے ملک و سلطنت کو چھوڑ کر مالک ِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضری کے لئے سفر کرتے ہوئے ایک گاؤں میں داخل ہوئے،تو آپ غم سے نڈھال ہو چکے تھے۔ راستے میں اپنے رفیق سے بِچھڑ گئے، سات دن تک نہ تو پانی کا گھونٹ پیا اور نہ ہی کوئی لقمہ کھایا۔ شیطان کو آپ کی صداقت پر غیرت آئی،کیونکہ وہ حقیقت کے بادشاہوں اور طریقت کے سلاطِین، اکابرین پر غیرت کرتا ہے۔ اور اُسے غیرت آنی بھی چاۂے کیونکہ انہوں نے وہ مبارک لباس پہن لیا جو شیطان سے اُتار لیا گیا تھا، اور انہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے قرب کوحاصل کر لیا جس سے شیطان کو دُھتکارا گیا تھا۔ چنانچہ، شیطان ایک نیک بزرگ کی شکل میں ظاہر ہوا اور کہنے لگا: ''اے ابراہیم! بات سنو، میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ محبوب جس کی وجہ سے تم نے سلطنت چھوڑ دی اور جس کی محبت میں تم نے مصائب وآفات اور ہلاکت کے گھوڑوں پر سواری کی، اس نے توتمہارا نقصان کیا اور تمہیں موت کے قریب کر دیا ۔''تو آپ نے ارشاد فرمایا: ''جب اپنے مقصودکے ضائع ہو جانے سے امان حاصل ہو جائے تو موت کے آنے میں کوئی نقصان نہیں۔''

    حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃاللہ الاکرم ابھی اسی حیرانگی کے عالم میں تھے کہ ایک خوبصورت شخص آپ کے پاس آیا، جس کی خوشبو سب کو معطَّر کر رہی تھی اور کہنے لگا:''اے ابراہیم! کیا آپ اسمِ اعظم سیکھنا چاہتے ہیں جس کی بدولت آپ کو پانی پلایا جائے اور کھانا بھی کھلایا جائے۔''آپ نے فرمایا: '' جی ہاں۔''تو اس نے آپ کو اسمِ اعظم سکھادیا ۔آ پ نے اس سے پوچھا: ''آپ کون ہیں ؟'' جواب دیا :''میں آپ کا بھائی خضر (علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام )ہوں۔'' پھر حضرت سیِّدُنا خضرعلٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا :''اگر آپ چاہیں تو میری صحبت اختیارکر سکتے ہیں۔''آپ نے فرمایا:''نہیں ۔''انہوں نے پوچھا: ''کیوں؟'' تو ارشاد فرمایا:''اس لئے کہ صحبت، شرکت سے حاصل ہوتی ہے اورمیں جس کی محبت میں گرفتار ہوں،اس میں کسی کو شریک نہیں کرناچاہتا،اور نہ ہی اس کے علاوہ کسی کی صحبت اختیار کرنا چاہتا ہوں اور میں کسی غیر کی صحبت اختیار کرنے میں اس سے ڈرتا ہوں کیونکہ وہ بہت زیادہ غیرت مند ہے،لہٰذا مجھے اس کی حاجت نہیں۔''
Flag Counter