Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
276 - 649
     حضرت سیِّدُنا عبدالواحدعلیہ رحمۃاللہ الواحدفرماتے ہیں:''چند دن بعد کسی نے مجھے اس کے متعلق بتایا کہ وہ فلاں جگہ موت کی سختیوں سے دوچار ہے ۔''چنانچہ، میں اس کے پاس گیااورپوچھا:''آپ کو کسی قسم کی حاجت ہو تو فرمائیے؟''اس نے جواب دیا: ''میری سب حاجتیں اس نے پوری کر دی ہیں جس کی میں نے معرفت حاصل کی ہے۔'' میں اس سے گفتگو کر رہا تھا کہ اس دوران مجھ پر نیند کا غلبہ ہو گیا۔ میں نے خواب میں ایک باغ دیکھا، جس میں ایک قبہ ہے، اور اس میں ایک ایساتخت ہے جس پر سورج و چاند سے بھی زیادہ خوبصورت چہرے والی حوربیٹھی کہہ رہی ہے: ''میں تجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم دیتی ہوں کہ اسے جلدی سے میرے پاس بھیج دو۔'' میں بیدار ہوا اور دیکھا تو اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر چکی تھی۔میں نے اس کو کفن دے کر قبر میں دفن کردیا اور جب میں سویا تو خواب میں اسی قبہ کو دیکھا جس کو پہلے دیکھا تھا۔ وہ نو مسلم بھی اس قبہ میں تھا۔حُور اُس کی ایک جانب کھڑی ہوئی تھی اوروہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان کی تلاوت کر رہا تھا:
(1) وَالۡمَلٰٓئِکَۃُ یَدْخُلُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ کُلِّ بَابٍ ﴿ۚ23﴾سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ﴿ؕ24﴾
ترجمہ کنزالایمان:اور فرشتے ہر دروازے سے ان پر یہ کہتے آئیں گے سلامتی ہو تم پر تمہارے صبر کا بدلہ تو پچھلا گھر کیا ہی خوب ملا۔(پ13،الرعد: 23۔24)

    اے میرے اسلامی بھائیو! فقر کی پوشاک زیب ِ تن کئے رکھو،کیونکہ اس پر عزت ووقار کے انوار ہیں۔
(2) وَلَکُمْ فِیۡہَا جَمَالٌ حِیۡنَ تُرِیۡحُوۡنَ وَحِیۡنَ تَسْرَحُوۡنَ ﴿۪6﴾
ترجمہ کنزالایمان:اور تمہاراان ميں تجمل ہے جب ا نہیں شام کوواپس لاتے ہو اور جب چرنے کو چھوڑتے ہو۔(پ14، النحل:6)

     مدینے کے تاجدار، دوعالم کے مالک ومختار بِاذنِ پروردگار عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ''بہت سے پراگندہ سر اور غبار آلود ایسے ہیں جنہیں کوئی حیثیت نہیں دی جاتی، اگر وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ پر (کسی بات کی )قسم کھا لیں تو وہ ان کی قسم پوری فرما دے۔''
 (جامع الترمذی،ابواب المناقب،باب مناقب البراء بن مالک،الحدیث۳۴۵۴،ص۲0۴۷)
؎ بکھرے بال، آزردہ صورت ہوتے ہیں کچھ اہلِ محبت 

بدؔر مگر یہ شان ہے، اُن کی بات نہ ٹالے ربُّ العزَّت
گدڑی میں لعل:
    حضرت سیِّدُنا محمد بن منکدر رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''میں مسجد نبوی شریف علٰی صاحبھا الصلٰوۃ والسلام میں رات کے وقت ایک ستون کے پاس بیٹھا کرتا تھا۔ایک سال اہلِ مدینہ قحط میں مبتلاہو گئے۔بارش کے لئے دعا کرنے سب شہر سے باہر نکل پڑے لیکن پھر بھی بارش نہ ہوئی۔ جب رات ہوئی تو میں عشاء کی نماز کے بعد حسبِ عادت ستون سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ اسی اثناء
Flag Counter