حضرت سیِّدُنا عبد الواحد بن زید رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم فقراء کے ایک قافلے کی معیت میں سمندر کے سفر پر نکلے، تیز ہوا چلی اور ہمیں سمندر کے ایک جزیرے کی طرف بہا کرلے گئی۔ ہم نے وہاں ایک شخص کو بُت پرستی کرتے ہوئے دیکھا۔ ہم نے اس سے پوچھا: '' تم کس کی عبادت کر رہے ہو؟''اس نے اپنی اُنگلی سے بت کی طرف اشارہ کیا۔ ہم نے کہا: ''اے مسکین! ہمارے ساتھ کشتی میں ایک رفیق ہے جو اس طرح کی چیزوں کا بہت اچھا کاری گر ہے اور یہ بت اس لائق نہیں کہ اس کی عبادت کی جائے۔''تو وہ کہنے لگا:''پھر تم لوگ کس کی عبادت کرتے ہو؟'' ہم نے جواب دیا: ''ہم تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرتے ہیں۔''اس نے پوچھا :''اللہ عَزَّوَجَلَّ کون ہے؟'' ہم نے کہا : ''جس کاعرش آسمان پر ہے،جس کی سلطنت زمین میں ہے،جو سمندر کو راستہ بنادیتا ،زندوں اورمردوں میں اسی کا فیصلہ نافذہوتا ہے۔''اس نے پھر پوچھا: ''تمہیں یہ سب کیسے معلوم ہوا؟'' ہم نے کہا :''اس نے ہماری طرف اپنا ایک رسول بھیجاجس نے ہمیں یہ سب کچھ بتایا۔'' اس نے پھر پوچھا: ''رسول نے کیاکیا؟'' ہم نے جواب دیا: ''جب اس نے بادشاہِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کا پیغام مکمل طور پر پہنچا دیا تو اس نے اپنے رسول کو اپنے پاس واپس بلالیا۔''اس نے پھر پوچھا:''کیا اس رسول نے تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی کوئی نشانی بھی چھوڑی ہے؟''ہم نے کہا: ''کیوں نہیں، ہمارے پاس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کتاب ہے۔''اس نے کہا :''تو پھر مجھے دکھاؤکیونکہ بادشاہوں کی کتابیں بہت اچھی ہوتی ہیں۔''
ہم مصحف شریف لائے تو اس نے کہا :''میں پڑھنا نہیں جانتا۔''ہم نے ایک سورت پڑھ کر سنائی تو وہ رونے لگا حتّٰی کہ سورت ختم ہو گئی۔پھر وہ بولا: ''ایسے کلام والے ہی کے لئے زیبا ہے کہ اس کی نافرمانی نہ کی جائے۔''چنانچہ، وہ اسلام کی دولت سے سرفراز ہوگیا،ہم نے اس کو اپنے ساتھ سوار کر لیا اور اسے احکامِ شریعت اور قرآنِ کریم کی کچھ آیات سکھائیں۔جب رات ہوئی تو ہم نمازِ عشاء پڑھ کر سونے کے لئے اپنے ٹھکانوں پر چلے گئے، اس نے پوچھا: ''اے لوگو! جس معبود کی طرف تم نے میری رہنمائی کی ہے، کیا وہ سوتا ہے؟''ہم نے کہا:''نہیں،وہ زند ہ ہے، قیوم ہے، اُسے نہ اُونگھ آتی ہے، نہ نیند۔''اس نے کہا:''تم کتنے بُرے لوگ ہوکہ تم سوتے ہو اور تمہارا مالک نہیں سوتا۔'' ہمیں اس کی یہ بات بڑی پسند آئی۔پھر جب ہم آبادی تک پہنچ گئے اور جدا ہونے کا ارادہ کیاتو ہم نے چند درہم اکٹھے کر کے اسے دئیے اور کہا:''یہ رکھ لیں،ضرورت کے وقت خرچ کر لیجئے گا۔'' تو اس نے ناراضگی کا اظہار کیا اور کہنے لگا: