Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
277 - 649
میں ایک شخص جس کے چہرے پر زردی غالب تھی، چادر اوڑھے ہوئے ستون کی جانب بڑھا۔ میں اس ستون کے پیچھے ہو گیااور اس کو خبر نہ ہوئی۔ اس نے دورکعت نماز اداکرنے کے بعدبیٹھ کر دعا مانگتے ہوئے عرض کی: ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ!تیرے حبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے حرم والے بارش کی دعاکے لئے نکلے لیکن بارش نہ ہوئی،اے مولیٰ! تجھے اپنے حبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی عزت کا واسطہ! بارش برسا دے۔'' 

    حضرت سیِّدُنا ابن منکدر رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ اس نے ابھی اپنے ہاتھ نہ ہٹائے تھے کہ میں نے بجلی کے گرجنے کی آواز سنی اورساتھ ہی آسمان سے بارش برسنے لگی حتّٰی کہ میراگھر واپس لوٹنا بھی مشکل ہو گیا۔ جب اس کو بارش کا علم ہوا تو اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ایسی حمدوثناء کی جیسی میں نے آج تک نہ سنی تھی۔پھر وہ کھڑا ہو گیااور نمازپڑھتا رہا حتّٰی کہ فجر کا وقت قریب ہو گیا۔ پھر اس نے وتر ادا کئے اور دو رکعت نماز ادا کی۔پھر نماز کی اقامت کہی گئی۔ لوگوں نے نماز اداکی۔ اس نے بھی ان کے ساتھ مل کر نماز پڑھی۔ جب امام صاحب نے سلام پھیرا تو وہ جلدی سے باہر کی طرف چل پڑا۔ میں بھی اس کے پیچھے ہو لیایہاں تک کہ وہ مسجد کے دروازے تک پہنچ گیااور چادر ہٹا کر بارش کے پانی میں غوطہ زن ہو گیا۔ میں اسے حسرت وچاہت کی نگاہوں سے دیکھتا رہ گیا۔معلوم نہیں کہ اس کے بعد وہ کہاں گیا۔''

    پیارے پیارے اسلامی بھائیو!ہرمسافر حاجی نہیں ہوتا، نہ ہر گھر مکۂ مکرمہ ہے،نہ ہر زادِ راہ مقصود تک پہنچاتا ہے، نہ ہر پہاڑ عرفات ہے اور نہ ہی عرفات میں ٹھہرنے والا ہر شخص وقوفِ عرفہ کرتا ہے ۔
ایک جنَّتی نوجوان :
    حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں کہ ایک سال میں نے بیت اللہ شریف کا حج کیا، وقوف ِعرفہ کے دوران میں نے ایک نوجوان کودیکھا، جس پر زردی ، لاغری، پریشانی اور اَفسُرْدگی کے آثار نمایاں تھے۔ میں سمجھ گیا کہ اسے محبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کا کچھ حصہ عطا کیا گیاہے۔میں نے اس کو یہ کہتے ہوئے سنا :''میں تیری بارگاہ میں کیسے حاضری دوں ؟''کیا نافرمان زبان لے کر آؤں یاایسادِل لے کر آؤں جو تیری بارگاہ سے دُورہے؟ یا اللہ عَزَّوَجَلَّ! یہ لمحات کتنے حسین ہیں جبکہ تو میرے ساتھ محو ِکلام ہے اور اس جگہ تو مجھے پکار رہا ہے ۔'' 

    حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں کہ میں اس کی طرف بڑھا۔ جب اس نے مجھے دیکھا تو کہنے لگا: ''مرحبا ! اے ذوالنون!''میں نے پوچھا:''آپ نے مجھے کیسے پہچان لیا؟'' اس نے جواب دیا:''آپ کے متعلق مجھے اس ذات نے خبر دی ہے جو مجھے پہچانتی اور مجھ سے محبت کرتی ہے۔''پھر کہنے لگا:''اے ذوالنون!اس کی محبت نے مجھے لاغر کردیاہے،معلوم نہیں، میں اس کا قرب حاصل کرنے میں کب کامیاب ہوں گا؟اور کب محبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ جودوکرم کرتے ہوئے پردے اٹھائے
Flag Counter