Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
272 - 649
والے اورحضرت سیِّدنا یعقوب و یوسف علٰی نبیناو علیہما الصلٰوۃ والسلام کو ملانے والے نے مجھے یہاں بیٹھنے کا اس لئے حکم فرمایا ہے تاکہ وہ تمہارے گناہوں اور نافرمانیوں کو بخش دے اور عفوورضا کی دولت کا تاج تمہارے سرپررکھ دے ،ماضی کے گناہوں کو مٹادے ،مجرموں سے درگزر فرمائے اوردھتکارے ہوؤں اور نافرمانوں کی توبہ قبول فرمائے۔ (ارے! غورکرو کہ) محبوب ِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ موجود ہے، اُس کی رضا کی آنکھ تمہیں دیکھ رہی ہے،اور مصیبت تم سے ٹال دی گئی ہے، تو کیا تم میں توبہ کا عزمِ مصمَّم کرنے والا کوئی نہیں؟بے شک صلح کے جام تمہارے اردگرد گُھوم رہے ہیں اورتم پر سخاوت کی ہوائیں چل رہی ہیں۔''

    حضرت سیِّدُنا منصور بن عمار علیہ رحمۃ اللہ الغفارفرماتے ہیں:'' میرا کلام و بیان ابھی مکمل نہ ہوا تھا کہ نشے میں مدہوش ومجنون ایک نوجوان ہاتھ میں شراب سے بھراپیالہ لئے میرے سامنے کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا: '' اے ابن عمار! بتائیے، کیااللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے اس حالت میں بھی قبول فرما لے گا ؟ ' ' میں نے کہا: '' اے میرے دوست! کیسے نہیں قبول فرمائے گا حالانکہ وہ خود قرآنِ حکیم میں ارشاد فرماتا ہے:
(2) وَھُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ
ترجمہ کنزالایمان:اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ۔(پ25، الشورٰی:25)

    یہ سن کر اُس نوجوان نے پیالہ اپنے ہاتھ سے پھینکا اورحیران وسرگرداں باہرنکل گیااور اپنی غفلت کی نیند سے بیدار ہوگیا۔

اس کے بعد نشے میں چُور ایک بوڑھا شخص ہاتھ میں طنبورہ (ایک قسم کا باجا)لئے کھڑا ہو کر کہنے لگا: '' اے ابن عمار! کیا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس شخص کی توبہ قبول فرمائے گا جس کی تمام عمر نافرمانی اور گناہوں میں ضائع ہو گئی ہے؟' ' میں نے کہا: ''اے محترم! وہ کیسے نہ بخشے گا، حالانکہ وہ خود فرماتا ہے:''وَاِنِّیْ لَغَفَّارٌ (پ۱۶،طٰہٰ:۸۲)ترجمہ کنزالایمان:اوربے شک میں بہت بخشنے والا ہوں۔'' اس نے توبہ کرنے والوں کو خوشخبری دی ہے اوران کے لئے رحم و کرم کا دروازہ کھول دیا ہے۔''

    جب اس بوڑھے نے میرا کلام سنا تو طنبورہ پھینک دیا، اور غمگین حالت میں جدھر رُخ تھا اُدھر نکل گیا۔ پھر میرے سامنے شراب سے کھیلتا ہوا ایک نوجوان کھڑا ہوا جس پر وجد اور مستی چھائی ہوئی تھی، وہ کہنے لگا: ''اے منصور! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ مجھ سے عہد لو، اب تَو عہد کا زمانہ گزر چکا ہے اوروعدہ پورا ہونے والا ہے اور مطلوب و مقصود کے حصول کا وقت آ چکا ہے ۔ '' میں نے پوچھا: ''اے نوجوان! تمہیں اس مقامِ قرب پر کس نے فائز کیا؟'' اس نے جواب دیا: '' میری ہی وجہ سے خواب میں آپ کو وعظ کا حکم دیا گیا اور آپ کے پاس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے فرشتہ آیا۔''میں نے کہا:'' اے میرے دوست !یہ تو بتاؤکہ تم پر یہ راز کس نے منکشف کیا؟ '' اس نے جواب میں یہ آیتِ مبارکہ تلاوت کی:
(3) یَعْلَمُ خَآئِنَۃَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوۡرُ ﴿19﴾
ترجمہ کنزالایمان:اللہ جانتاہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپاہے۔(پ24،المؤمن:19)
Flag Counter