Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
273 - 649
    پھر کہنے لگا:'' اے منصور! جس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لطف و کرم کی خوشگوار ہوائیں چلتی ہیں وہ صاحب ِکشف بن جاتا ہے۔'' میں نے پھر دریافت کیا:'' اے محترم !لطف و کرم کی یہ خوشگوار ہوائیں تم پر کب چلیں؟''وہ بولا: ''آج رات، جبکہ آپ سو رہے تھے۔''پھر کہنے لگا:'' اے ابن عمار!آپ میری رہنمائی اور اس کی بارگاہ میں قرب کا سبب بنے ہیں، تو کیا اس کی بارگاہ میں آپ کو کسی قسم کی کوئی حاجت ہے؟''میں نے پوچھا: ''تمہاری مراد کیا ہے؟'' کہنے لگا:''اے منصور! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہِ قرب میں، ایسے دوستوں کے درمیان جن پر محبت و اُنس کے پیالے گردش کرتے ہیں، اور حجاب اٹھا دئيے جاتے ہیں، اگر آپ مجھے دیکھنا چاہتے ہیں تو کل وہاں مجھ سے ملاقات کیجئے گا۔'' وہ ہوا میں اُڑتا ہوا میری نگاہوں سے غائب ہو گیا، اور میں اسے دیر تک ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا۔پھر میں نے اُسے چند اشعار پڑھتے سنا، جن کا مفہوم یہ ہے:

    ''میرے محبوب ِحقیقی عَزَّوَجَلَّ نے مجھے پکارا ہے، اس سے وصال کی گھڑیاں قريب آگئی ہیں۔ اب اگر اس نے پوچھا کہ تو کیا چاہتا ہے تو میں کہہ دوں گا: تیری محبت کا ایساجام کہ جس کے نشے میں عرصۂ دراز تک حیران و سرگرداں رہوں۔اے میری آنکھوں کے نور!میں تجھ کو ایسی نظرسے دیکھناچاہتا ہوں جس میں دوری کے بجائے صرف قرب ہو کہ اب اس شوق میں تو میری عقل ختم ہو چکی ہے۔ اے میرے محبوب!میری زبان پرسوائے تیرے ذکر کے کچھ نہیں۔ اور جب سے تو نے مجھے وصال کی خوشخبری دی ہے اور میں نے اس پر لَبَّیْک کہا ہے تو اس کے بعدکبھی بھی حاضر ہونے میں سستی کا مظاہرہ نہیں کیا۔حالانکہ میری حالت تو یہ تھی کہ لگاتار گناہوں میں ڈوبا ہوا تھا لیکن تو نے مجھ پر کرَم کیااور میرے دل کی بیماریوں کاعلاج اپنے وصال سے کیا۔مجھے اپنی بارگاہ سے دور نہ کیا۔ میں گناہوں کے گڑھے کے کنارے پرتھالیکن تو نے مجھے اس میں گرنے سے بچا لیا۔اور مجھے اس راستے کی پہچان کروا دی جو تیری بارگاہ تک پہنچانے والا ہے۔اب میں ا س پر چل کر یقینااپنا مقصود پالوں گا۔
؎ رہوں مست وبے خود میں تیری وِلا میں 		پلا جام ایسا پلا یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ !
وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْن
Flag Counter