Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
271 - 649
میں نے وضو کیا اور دو رکعت نماز پڑھ کر دوبارہ سو گیا۔ وہی فرشتہ خواب میں دوبارہ نظر آیا اور کہنے لگا : '' اے منصور! میں اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کے حکم سے آیا ہوں، اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے: تم اٹھو اور شراب خانے میں بیان کرو ،تمہاری حفاظت ہمارے ذمۂ کرم پر ہے۔'' چنانچہ، میں نیند سے بیدار ہوا،مجھے اس معاملے سے بڑا تعجب ہوا، سوچ و بچار کے بعد میں نے دل میں کہا: ''منبر اٹھانے کے لئے کسی کو لاتا ہوں۔'' 

    یہ سوچ ہی رہا تھا کہ کسی نے دروازے پر دستک دی۔میں نے پوچھا: '' کون ؟ ''جواب آیا: ''اے میرے محترم! میں منبر اٹھانے کے لئے حاضر ہوا ہوں، آپ چاہیں تو آپ کے لئے شراب خانے کے درمیان منبر رکھ دوں یا مٹکوں کے درمیان؟'' میں نے پوچھا :'' تجھ پر یہ راز کیسے منکشف (یعنی ظاہر)ہوا ؟''اس نے بتایا: ''یہ مجھ پر اُسی نے ظاہر کیا ہے جو کسی شئے کو ''کُنْ'' (یعنی ہوجا) فرماتا ہے تو وہ ہو جاتی ہے۔ حضور! جو فرشتہ آج رات آپ کے پاس آیاتھا ، وہی آپ کے بعد میرے پاس بھی آیا تھا اور مجھے حکم دیاکہ میں آپ کے لئے شراب خانے میں منبر بِچھا دوں۔'' میں نے کہا:'' اے میرے دوست! اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسے تم کہہ رہے ہو تو وہی کرو جس کاتمہیں حکم دیا گیا ہے۔''جب صبح خوب روشن ہو گئی، تومیں نے حکم کی بجاآوری میں جلدی کی، میں نے دیکھا کہ تمام شرابی حلقہ بنائے انتظار میں بیٹھے ہیں، بہرحال میں منبر پربیٹھ گیا اور کچھ دیر کے لئے سر جھکالياپھرمیں نے اپنا سر اُٹھایا اورنصیحت بھرا بیان شروع کر دیا:

    ''اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ! سب خوبیاں اس ذات کے لئے ہیں جس نے اپنے محبوب بندوں کے دلوں کو اپنے قرب کی لذت عطا فرمائی اور انہیں اپنے مئے خانۂ وصال میں داخل کیا اور اپنی شرابِ طہور سے سیراب کر کے اپنے غیر سے بے خبر کر دیا۔ اور محب اپنے محبوب کے علاوہ کسی شئے میں مشغول نہیں ہوتا۔ جب اس ربِّ جلیل عَزَّوَجَلَّ نے ان پر تجلِّی فرمائی تو جمالِ قدرت کے مشاہدے کے وقت ان کے ہوش اڑ گئے۔ اے خواہشات کی شراب میں بدمست ہونے والو! اگر تم محبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے مئے خانے میں داخل ہو جاؤاورشراب کے مٹکوں کے بجائے قرب کے گھڑوں کا مشاہدہ کرو ، بخشنے والے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں صاحب ِوقار مَردوں کو دیکھوکہ ان پر خوشی و مسرت کے جام گردش کر رہے ہیں، خالص شراب ِطہورکے پیالوں نے ان کو دنیا کی

شراب سے بے پرواہ کر دیا ہے،ان کے پیالے اُن کی خوشی و مسرت ہے۔ ان کی شراب ذِکْرِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ ہے۔ ان کی خوشبو اُن 

کا قرآن ہے۔ ان کی شمع ان کی سماعت ہے۔ ان کے نغمے توبہ و استغفار ہيں۔ جب رات تاریک ہوتی ہے اور سب لوگ سو جاتے ہیں تو رب ِکائنات عَزَّوَجَلَّ ان پر تجلِّی فرماتااورپردے اُٹھا دیتاہے، اور اس کے محبوب بندے ایسے جہاں کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ جس کاتصورکسی کی عقل میں ایا،نہ کسی کے ذہن میں اس کا خیال گزرا۔ 

    اے عقل مندو!ذرا غورتوکروکہ اخروٹ اور اس کے چِھلکے کے درمیان کتنا فاصلہ ہوتا ہے، دلوں کی ٹہنیوں کو حرکت دینے