Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
270 - 649
-کر اس عابد نے کہا: ''آپ کو میرے متعلق بتانے والے نے دھوکا دیا ہے، میں تو اپنے نفس کو غیرِ خدا میں مُعلَّق سمجھتا ہوں۔ اے ابن سماک! عقلمند تو وہ ہے جو ہلاکت سے پہلے خلاصی پانے اور نجات حاصل کرنے کی کوشش کرے۔'' جب میں نے اس کا کلام سنا تو بے اختیار رو پڑا۔ جب میں نے واپسی کا ارادہ کیاتو پوچھا: '' آپ کی کوئی حاجت ہو تو فرمائیے؟''اس نے کہا: ''جو ایسے ویرانے میں رہتا ہو، اُسے کسی انسان سے کوئی حاجت نہیں ہو سکتی۔''پھر وہ کہنے لگا: '' اے ابن سماک ! اگرتمہیں کسی قسم کی حاجت ہوتو بتائیے؟''میں نے کہا: '' میں آپ کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم دیتا ہوں کہ جو میں پوچھوں، آپ اس کا جواب دیں گے۔آپ کو دنیا و آخرت کی کون سی چیز پسند ہے؟'' تواس نے روتے ہوئے کہا: ''اگر آپ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم نہ دیتے تو میں کبھی بھی نہ بتاتا ،مجھے دنیا کی یہ چیزیں پسند ہیں: اطاعت وعبادت پر قوت، زہد، قناعت، خواہشات سے دوررہنے والا نفس اور خوف خدا سے لبریز دل۔ اور آخرت میں مجھے یہ پسند ہے کہ میں بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ سے یہ اعلان سنوں کہ جا،تجھے بخش دیاگیا۔''

    پھر اس نے ایک آہ سرد دلِ پُردَردسے کھینچی اور زمین پر تشریف لے آیا اور سفرِ آخرت پر روانہ ہوگیا۔ مجھے اس کے حال اور معاملے سے بڑی حیرت ہوئی۔اور میں نے اس کو غسل وکفن دینے کا ارادہ کیا تو اپنے پیچھے سے ہاتف ِ غیبی کی آواز سنی: '' اے ابن سماک! فکر نہ کر، کیونکہ اس کا معاملہ تیرے سپرد نہیں۔'' پھر اس کا جسم میری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا اور اس کو غسل دیئے جانے کی آواز سنائی دی، لیکن کوئی دکھائی نہ دیا،اور میں نے کسی کہنے والے کو یہ کہتے سنا: ''اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دوست! تجھے مبارک ہو، قیامت کے دن تجھے خوف سے امن عطا کر دیا گیاہے۔ ''
؎ امتحاں کے کہاں قابل ہوں میں پیارے اللہ عَزَّوَجَلَّ!

بے سبب بخش دے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ تیر ا کیا جا تا ہے
شراب خانہ اور صدائے حق:
    حضرت سیِّدُنا منصور بن عمارعلیہ رحمۃاللہ الغفار جو عراق کے مشہور مبلِّغ تھے، فرماتے ہیں کہ'' ایک رات عالَمِ خواب میں مَیں نے آسمان میں ایک کھلاہوا دروازہ دیکھا، اس سے ایک انتہائی نورانی فرشتہ اُترا اور مجھ سے کہنے لگا: '' اے ابن عمار!خدائے جبَّار وقہَّار، دن رات کا خالق عَزَّوَجَلَّ تمہیں سلام فرماتا ہے اور حکم فرماتا ہے کہ کل اپنا منبر شراب خانے میں رکھ کر وہیں دل سے نصیحت بھرا بیان کرنا کہ اس میں ہمارے بہت سے راز پوشیدہ ہیں اورہم تمہیں اپنی عجیب نشانیاں دکھائیں گے۔''چنانچہ، میں گھبراکر نیند سے بیدار ہوا اور سوچا کہ یہ عجیب معاملہ ہے، شاید! میرا وہم ہو۔ میں نے
''اِنَّالِلّٰہِ وَ ِانَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ''
پڑھا۔اور سوچنے لگا کہ صحیح احادیث نااہلوں کے سامنے کیسے بیان کی جائیں؟ اور شراب کے مٹکوں اور پیالوں کے درمیان کس طرح قر آنِ کریم کی تلاوت کی جائے؟ نصیحتوں اور آیاتِ مقدَّسہ کو شرابیوں کے سامنے اور وہ بھی شراب خانے میں کیسے پیش کیا جائے؟ چنانچہ،
Flag Counter