Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
269 - 649
وزارت کیوں ترک کی ؟
    خلیفہ ہارون الرشید کے وزیرحضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مشرف رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ایک دن اُس کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے پوچھا:'' اے خلیفۃ المسلمین! اگرکوئی شخص آپ کے دربار میں درخواست کرے کہ میرا غلام فرار ہو کر آپ کے پاس آ گیا ہے، لہٰذا آپ مجھے میرا غلام لوٹادیں، تو کیا آپ اس کو اس کا غلام واپس کر دیں گے؟'' تو خلیفہ نے کہا: ''کیوں نہیں۔''تو انہوں نے فرمایا: '' جناب! میں بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کا غلام ہوں ،جو اپنے مالک ِحقیقی عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ سے فرار ہو کر آیا ہے، آپ مجھے اس کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے چھوڑ دیں،تاکہ میں دوبارہ اس کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤں۔''ہارون الرشید اور تمام حاضرین رودئیے پھر خلیفہ کہنے لگے:'' ہم میں سے یہ شخص نجات پا گیا ،جبکہ ہم یہاں بیٹھے اِس کی طرف دیکھ رہے ہیں۔'' پھر خلیفہ ہارون الرشید نے انہیں جانے کی اجازت دے دی تو وہ اسی وقت احرام باندھ کر
''لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیَکَ''
کہتے ہوئے حرمِ پاک کی طرف چل پڑے۔ راستے میں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ان سے ملے اور دیکھا کہ وہ زمین پر محو ِ خواب ہیں اور ہوا مٹی اُڑا اُڑا کر ان کے چہرے پرڈال رہی ہے۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ا ن کو سلام کرنے کے بعد دریافت فرمایا :'' اے عبداللہ! سب کچھ چھوڑنے کا عوض اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تجھے کیا دیا؟''وہ بولے: '' اے سفیان !اپنی وزارت وغیرہ چھوڑنے کاعوض اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے یہ دیاکہ اس نے مجھے اپنی رضا عطا فرما دی جس میں، مَیں اِس وقت ہوں۔'' جب حرمِ پاک کے مشائخ  کو ان کے آنے کی خبر ہوئی تو وہ سلام پیش کرنے کے لئے نکل پڑے ۔ ان کی لاغری اور غبار آلودگی کو دیکھ کر انہوں نے پوچھا: ''بے آب وگیاہ چٹیل میدان کاسفر آپ نے کیسے برداشت کر لیا؟'' حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مشرف رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے جواب دیا: ''جس مجرم غلام کا دل اُسے آقا کے دروازے کی طرف لے جارہا ہو، وہ اپنے آقا کی بارگاہ میں کیسے آتا ہے؟ اگر مجھے قدرت ہوتی تو میں سر کے بل آتا۔'' اس کے بعد وہ رونے لگے ،پوچھا گیا :'' کیوں رو رہے ہیں؟'' ارشاد فرمایا:'' میں نے اپنا شفیع آگے بھیج دیا ہے، شاید! اس کی شفاعت قبول ہو جائے۔'' اور جب ان کی نظر بیت اللہ شریف پر پڑی تو زور دار چیخ ماری اور ان کی روح جسم سے جدا ہوگئی۔
؎ بے سبب بخش دے نہ پوچھ عمل		نام غفَّار ہے تیرا یا رب عَزَّوَجَلَّ!
دُنیا وآخرت کی پسندیدہ چیزیں:
    حضرت سیِّدُنا محمد بن سماک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے سامنے شام کے ایک پہاڑ میں رہنے والے عابد کی تعریف کی گئی تو میں اس کے پاس چلا گیا اور سلام پیش کیا، اس نے سلام کا جواب دینے کے بعد مجھ سے پوچھا: '' اے ابن سماک! آپ کو اس جگہ کون لے کر آیا؟'' میں نے عرض کی: '' میں نے آپ کی تعریف سنی اور زیارت کے لئے حاضر ہوگیا۔'' یہ سن
Flag Counter