وآلہ وسلَّم نے عرض کی: '' جن خلعتوں کا نور کائنات میں پھیلا ہوا ہے اور چمک رہاہے، ان کی پہچان اور اوصاف کیا ہیں؟ دُنیا میں ان کے نام کیا ہیں؟''جو اب ملا :''اے حبیب ِمحترم(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)!قرب کے مراتب پر تشریف رکھئے،یہ سب آپ(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)کے سامنے ایک ایک کر کے اپنے جلوے ظاہر کریں گی۔''
سب سے پہلے جو دلہن آئی اس پر روشن و چمکدار انوار واضح تھے ،جس کی خوشبو تمام جہان میں پھیلی ہوئی تھی، اس کا نور اہلِ عقل وبصیرت کے سامنے واضح طور پر چمک رہا تھا۔ اس وقت آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو پکارا گیا :''اے وہ ہستی جو ہمارا وصال پا کر ہجروفراق کے غم سے محفوظ ہو گئی اوراے وہ ہستی جس کی برکت سے اس کی اُمَّت کوبہت بڑا اجر وثواب حاصل ہوا! اس خِلْعت کو نمازِ فجر سے پہچانا جائے گا۔ اس کے بعد آپ(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)نے سفید و روشن لباس میں دوسری دُلہن کو ملاحظہ فرمایا تَو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو آواز دی گئی: ''اے اعلیٰ مراتِب کے مالک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! اور وہ ذات جس کی امت کو نماز ( کے لئے ساری زمین کو مسجد بنا کر)اور (پاک زمین سے) طہارت کا حکم دے کردیگر تمام امتوں پر فضیلت دی گئی ہے! اس نورانی پوشاک کا نام نمازِ ظہر ہے۔''پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے سامنے واضح نورانی لباس میں ملبوس تیسری دلہن ظاہر ہو ئی۔ اس کے چمکتے چہرے کے نور سے کائنات جگمگا اُٹھی، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوبتایاگیا:''اے وہ ذات جس کی صفات کی کوئی حد نہیں!اور جسے رُعب ودبدبہ اور نصرتِ خداوندی کی تلوار عطا کی گئی ہے! اس جگمگاتے حُلِّے کانام نمازِعصر ہے۔''پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمتِ اقدَس میں باکمال لباس میں ملبوس چوتھی دُلہن ظاہر ہو ئی تَو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوکہاگیا''اے مُقرَّب و مہذَّب افراد میں سب سے زیادہ قرب و شرف پانے والے!اس خِلعت کانام نمازِمغرب ہے۔'' پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے سامنے وفا کے حُلِّے زیب بدن کئے ہوئے پانچویں دلہن آئی۔ اور بلاشبہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نہایت عزت و شرف کے مقام پر فائز ہوئے اور مجتبیٰ ومصطفی بن گئے اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو بتایاگیا :''اے تمام مخلوق میں سب سے بہتر اورحسین ہستی(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)!اس خِلعت فاخرہ کانام نمازِعشاء ہے۔پس آپ(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)کی امت ان پانچ نمازوں کی پابند ہو گی لیکن اجر وثواب پچاس کا پائے گی ، اوراے حوض و کوثر کے مالک(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)!میں تجھے اس سے بھی زیادہ عطا کروں گااور اسی کا ذکر قبول کروں گا جو میرے ذکر کے ساتھ تیرا ذکر بھی کرے۔''
جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر پانچوں نمازیں دلہنوں کے لباس میں ظاہر ہوچکیں تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ایک آواز سنی: خوشخبری ہے اس کے لئے جو ان نمازوں کی پابندی کرے،پس وہی اپنے مقصود و مراد کو پہنچے گا۔ جس نے آج تک اپنی خواہش کی قید سے چھٹکارا حاصل نہ کیااور اس سے بچنے کی کوئی راہ تلاش نہ کی، اس سے کہہ دو کہ وہ اپنے گذشتہ اعمال پر افسوس کرتے ہوئے اپنے نفس پر روئے ،اور اگرآنسو نہیں بہا سکتا توکم از کم رونے والی شکل بنالے۔